نور فاطمہ افضل ، ڈان ٹی وی ، نوائے وقت
لاہور:پاکستان کے صوبے پنجاب میں حالیہ میٹرک امتحانات کے دوران مطالعہ پاکستان کے پرچے میں سیاسی شخصیات سے متعلق سوالات سامنے آنے کے بعد نصابی کتب میں حکمران شخصیات کے تذکرے پر ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔
امتحان دینے والے متعدد طلبہ اور اساتذہ کے مطابق پرچے میں ایسے سوالات شامل تھے جن میں طلبہ سے مریم نواز شریف، کلثوم نواز اور شہباز شریف کے بارے میں رائے یا خدمات بیان کرنے کو کہا گیا تھا۔
سوشل میڈیا پر زیر گردش سوال ناموں میں ایک سوال یہ بھی بتایا گیا کہ ’کلثوم نواز کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے۔‘
نصابی کتاب میں شامل مواد کیا ہے؟
پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کی دسویں جماعت کی مطالعہ پاکستان کی حالیہ کتاب میں ’قومی ترقی میں خواتین کا کردار‘ کے عنوان سے ایک باب شامل ہے، جس میں ماضی اور حال کی نمایاں خواتین شخصیات کا ذکر کیا گیا ہے۔
اسی باب میں فاطمہ جناح، بے نظیر بھٹو، نصرت بھٹو، فہمیدہ مرزا اور بلقیس ایدھی کے ساتھ مریم نواز شریف اور کلثوم نواز کا تذکرہ بھی موجود ہے۔
کتاب میں مریم نواز شریف کے بارے میں لکھا گیا ہے کہ وہ 2024 میں پنجاب کی پہلی خاتون وزیراعلیٰ بنیں اور مختلف شعبوں میں منصوبے شروع کیے جبکہ کلثوم نواز کے بارے میں ان کے سیاسی کردار اور اپنے شوہر کے ساتھ کھڑے ہونے کا ذکر کیا گیا ہے۔
یہ نصاب تعلیمی سال 2025 سے نافذ ہوا اور 2026 کے امتحانات میں اسی سے سوالات پوچھے گئے۔
تعریف یا خودستائشی؟ سوشل میڈیا پر ردعمل
اس کے بعد سوشل میڈیا اور تعلیمی حلقوں میں مختلف آرا سامنے آئیں۔ بعض نے تنقید کرتے ہوئے اسے موجودہ حکومت کی جانب سے نصاب میں اپنی تعریف شامل کرنے کی کوشش قرار دیا، جبکہ حکومت کی جانب سے سامنے آنے والا موقف یہ رہا کہ یہ باب مجموعی طور پر خواتین کی خدمات کو اجاگر کرنے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے اور اس میں مختلف ادوار کی خواتین کو شامل کیا گیا ہے۔