لاہور سے ممتاز تجزیہ نگار یوسف غوری کی برطانیہ سے سب سے زیادہ شائع ہونے والے اور نیوز پیپرآف دی ائرنوائے وقت اور ڈان ٹی وی کے لئے خصوصی تحریر
جنگیں ایسے ایسے معجزے، کرشمے اور کرامات برپا کرتی ہیں کہ عام زندگی میں بہت کم نظر آتے ہیں۔ اسلام آباد ان معجزات و کرامات کا مرکز بن چکا ہے۔ کس اللہ کے ولی کی دعا ہے کہ دنیا اسلام آباد پہ نگاہیں جمائے بیٹھی ہے۔ کسے یہ مرتبہ دیں؟ کس کی تعریف کریں۔ ایک ہی شخص سب کے دل کی دھڑکن بنا ہوا ہے اور یہ اعزاز پاکستان کا ہے۔ ایک مثل سنا کرتے تھے، ڈوبتے کو تنکے کا سہارا۔ سمجھ نہیں آتی تھی کہ ڈوبنے والی کوئی وزنی شے ہو تو تنکا کیا سہارا دے گا۔ مگر حالیہ جاری جنگ میں یہی کرامت سب نے دیکھی،جنگ میں تباہی سے اسلام آباد کا سہارا۔ جنگ سے ہارے ہووے کا ایک فیلڈ مارشل سہارا۔ اگر چیف صاحب اپنے وطن عزیز پہ آئی ایم ایف کے قرضے معاف کروا لے، اور مقروض ملک کو قرضوں کی ادائیگی سے نجات دلا دے۔ تو اس سے بڑی فتح پاکستان کی کیا ہوگی۔ اس جنگ کا فاتح پاکستان نہ ہوا تو کیا فائدہ۔ خوامخواہ اوکھلی میں سر دینا اور بڑے بڑے خطرات سے کھیلنا کس کام کا؟ پاکستانی قیادت کسی بھی بڑے ملک کو فی سبیل اللہ مدد کر کے ثواب کا کام سمجھ کر کرتی ہے۔ اور اس کا اجر اگلے جہاں پہ چھوڑدیتی ہے۔ 1979 میں ہونے والے افغانستان پہ سوویٹ قبضہ اور پھر کامیابی سے اس کا انخلا کرانے والا جنرل صرف اپنے اقتدار کو طول دیتا رہا مگر آئی ایم ایف کے قرضوں کی دلدل سے پاکستان کو نکالنے کا نہ کہہ سکا۔ نہ ڈیم بنا نہ کوئی پاور پروجیکٹ کوئی ریفائنری یا کوئی بڑا صنعتی یونٹ بنا۔ بس بھٹو کو پھانسی سے آگے کچھ نہ سوچا۔ اب پھر ڈوبتے کو اسلام آباد کے سہارے کی ضرورت ہے ، کیا اسلام آباد اپنی بھی کوئی بگڑی بنائے گا یا بس صلح صفائیاں کروا کے تمغہ جرات اپنے سینے پہ سجا کر اسی ڈگر پہ لُڑکتا رہے گا، جہاں 80 سالوں سے غربت، بے روزگاری، ناخواندگی، افلاس، صحت کی سہولتوں ، پانی کے ذخائر، سیلاب کی تباہ کاریاں اور زرعی و صنعتی ترقی کے مسائل میں ایک جمود کا شکار ہے اور ایٹم بم کے سہارے چلا جا رہا ہے۔ دفاع مضبوط ہے بس ، اور کیا چاہئے!معشیت کی گاڑی لائن پہ نہ آئی تو دوستوں کا امتحان لیتے دیتے رہیں گے۔یاروں کا یار پاکستان اپنی یاری کی دھاک بٹھا چکا ہے، غریب ہے پر بااعتماد و قابلِ بھروسہ تو ہے! اخلاقی دیوالئے پن کا شکار نہیں ہے۔پاکستان زندہ باد
پسپائی ڈھٹائی، ڈھٹائی پسپائی آپس میں الجھ کر اکھاڑے کی طنابیں اکھاڑ چکی تھی۔اناؤں کا دنگل تھمنے کا نام نہ لیتا تھا۔ ڈھول پیٹنے والے بھی نہیں تھکتے، دھنا دھن پیٹے جارہے ہیں۔ڈولچیوں اور طبلچیوں نے سارے ٹی وی چینل پہ قبضہ جما لیا تھا ۔جو چینل لگاؤ ، کانوں میں ڈھول کی دھن دھن دھن آواز سنائی دیتی۔ ڈوبنے والے جب کسی تنکے کے سہارے سے پار لگ جاتے ہیں تو پھر تنکے کو بیچ منجدھار کے تنہا موجوں کے حوالے کر کے چلتے بنتے ہیں، تنکوں کا یہ انجام مسلسل حیرت انگیز طور پہ بہت تکلیف دہ ہوتا ہے۔ہمارا تو امتحاں کئی بار ہو چکا ہے۔ بین الاقوامی سیاست میں تو یہ عام سی بات ہے، مگر سہارا دینے کے دوران ہی بیچ میں اپنا کوئی لُچ بھی اگر تلنا چاہو تو یہ بھی ممکن ہوتا ہے۔ متحدہ عرب امارات نے تو اس مشکل گھڑی میں اپنا قرض نکلوا لیا اور ایک دوسرے دوست نے پاکستان کی یہ مشکل حل بھی کردی، مگر یہ آئی چلائی ایک عام دکاندارانہ سا رویہ ہے، پاکستان ایک ملکی سطح کا قدم کیوں نہ اٹھائے اور کسی پالیسی پہ اپنی معیشت استوار کرے تاکہ یہ جھٹکے نہ سہنے پڑیںَ ،اب جب تک اس جنگ کا میلہ سجا ہوا ہے، پاکستان کا امن چورن بک رہا ہے،پاکستان کو گڈُی چڑھی ہوئی ہے تو کوئی گرم لوہے پہ شہباز شریف ہتھوڑا مار لیں۔ کوئی دیر پا پروجیکٹ اور کوئی تجارتی و سرمایہ کارانہ ہدف بھی حاصل کئے جئیں۔لوہا ٹھنڈا ہوگیا تو شہباز شریف جواب دہ ہونگے۔ ورنہ ثواب کماتے رہیں! فی سبیل اللہ خدماتِ ادا کرتے رہیں، امن قائم ہوکے رہے گا!