ٹیچر نے کردیا پھٹیچر، ٹرمپ کے جنگی جنون سے اساتذہ بھی متنفر

لاہور سے ممتاز تجزیہ نگار یوسف غوری کی برطانیہ سے سب سے زیادہ شائع ہونے والے اور نیوز پیپرآف دی ائرنوائے وقت اور ڈان ٹی وی کے لئے فکر انگیزتحریر

ٹیچر نے کردیا پھٹیچر ، آخر ایک نوجوان کیلیفورنیا کے ٹیچر نے اپنے نفرت کی بھڑاس گولی چلا کرصدر کو پھٹیچر کرنے کی کوشش میں نکال دی۔ امریکی سوسائٹی میں دونوں سیاسی پارٹیاں، ریپبلیکن اور ڈیموکریٹ تو ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگی جنون کے خلاف تو تھیں ہی، مگر اب سوسائٹی میں ٹیچر طبقہ بھی اپنے غصے کا اظہار کر چکا۔ امریکی معاشرے میں ٹرمپ کی جنگی حکمت عملی سے معاشرے کا کوئی طبقہ بھی متفق نہیں ، حتیٰ کہ سیکوریٹی ادارے بھی اس کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ جب امریکی معاشرے کی اکثریت ، تقریباؔ 63 ٪ ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران پہ کی گئی مسلط جنگ کے خلاف ہے تو ڈونلڈ ٹرمپ یہ لڑائی کیوں لڑ رہا ہے، کس کے لئے یہ جنگ کر رہا ہے اور کب تک یہ آگ و بارود کا کھیل جاری رہے گا؟حالانکہ پاکستانی قیادتیں رات دن شبانہ روز کوشش کرہے ہیں کہ جنگ بند ہو مگر جب تک ٹرمپ کا جنگی جنون ٹھندا نہیں ہوتا، کہہ مکرنیاں جاری رہیں گی۔
کسی بھی سوسائٹی کا درس و تدریس کا شعبہ انتہائی حساس ، باشعور مگر معصوم طبقہ ہوتا ہے، جسے اپنے اظہار کا موقع نہیں ملتا تو پھر استاد اسلحہ اٹھا کر اپنی نفرت کو ریکارڈ پہ لاتا ہے۔ اور سوسائٹی کو بتا تا ہے کہ استاد اپنے دور کی جاری ناانصافیوں ، جنگوں اور غلط حکمت ِ عملیوں کو نہ صرف سمجھتا ہے بلکہ اسے قطعی طور پہ ناپسند بھی کرتا ہے۔ امریکی سماج کا یہ استاد اپنے حصے کا کام کر چکا ہے۔ باقی معاشروں کو اپنے اپنے استادوں سے کس حد تک کام لینا ہے، وہ خود طے کر لیں گے۔
اس ایران امریکہ اسرائیل جنگ کا ایک بہت بڑا ردعمل یہ سامنے آیا ہے کہ اس جنگ کے نتیجے میں، امریکی سوسائٹی صدر ٹرمپ کے خلاف ریلیاں نکال رہی ہے، اور ایرانی سوسائٹی کے منحرف افراد اپنی حکومت سے اظہار یکجہتی کر رہے ہیں، ایران ایک قوم بن کر ڈٹ کے کھڑا ہو گیا ہے۔ امریکہ انتشار کا شکار ہو رہا ہے اور ایران اتحاد بن کر ابھر رہا ہے۔ ایرانی عوام حکومت کی خاطر اپنی تہذیب و غیرت کی خاطر جانوں کا نذرانہ پیش کرہی ہے۔ امریکی افواج جنگ سے بچنے کا جتن کرہی ہے۔ اور اسرائیلی عوام بھی جنگ کے خلاف ریلی نکال چکی ہے۔ دراصل امریکہ و اسرائیل کی حکومتوں کو خود اپنی عوام سے منہ کی کھانی پڑی ہے۔ اور بین الاقوامی سطح پہ ایران کو پذیارءی جبکہ امریکہ و اسرائیل کو عالمی سطح پہ رسوائی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، اٹلی کی وزیر اعظم نے جس طرح کھلم کھلا مذمت و نفرت کا اظہا کیا ہے، اس کی مثال کوئی نہیں ہے۔ یوروپی ممالک نے اپنے دوست امریکہ سے اس کی جنگی حکمت عملی سے لاتعلقی کا اظہار کر کے ایک طرح سے ایران ہی کا ساتھ دیا ہے۔
ایران کے مددگاروں کی فہرست طویل ہوتی جارہی ہے۔ کئی ممالک جیسے روس چین اور شمالی کوریا کھلم کھلا ایران کی حمائت اور مدد کررہے ہیں۔مسلمان ممالک ایران کی اس قلندرانہ ادا پہ مر مٹ رہے ہیں اور ایران کےحق میں دعائیں کررہے ہیں۔ حافظ نعیم جماعت اسلامی کی طرف سے ایران کی پرزور تائید و حمائت کا اعلان کرچکے ہیں۔ مسلم حکومتیں اپنے اپنے حصار میں اگرچہ بند ہیں مگر چھپ چھپا کر ایران کو یقین دہانی کروا رہے ہیں کہ ہم ایران کے ساتھ کھڑے ہیں۔ حکومتِ پاکستان نے تو کمال ہی کردیا ہے، اور صبح شام ایران صدر مسعود پزشکیاں کو فون کر کر کے ان کے ساتھ کھڑے رہنے کی قسمیں اٹھا کر یقین دلاتے ہیں۔پھر امریکہ اور ایران کی جنگ بندی بھی کروا کر مذاکرات کی تاریخی التوا کا شکار کرکے صلح صفائی کے امکانات کو روشن کرتے ہیں۔ یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی! پاکستان کی امن پسندانہ حکمت ِ عملی کا کسی کو فائدہ ہو یا نہ ہو، یہ جنگ بند ہو یا نہ ہو، اسرائیل یا امریکہ تباہ ہو یا نہ ہو، ایران رہے یا نہ رہے، پاکستان کی فارم 47 کی جعلی حکومت مضبوطی سے قائم دائم ہے!!!
اگر آپ سب یہ جنگ بندی پائدار و مستقل کرا نا چاہتے ہیں تو اس کے لئے اسرائیل کی رضا مندی لازمی ہے۔ مگر اسرائیل براہِ راست امن مذاکرات کا حصہ نہیں اور مذاکرات کے دوران بھی اسلام آباد سے کال یں کر کر کے نتنیا ہوی کی راضامندی کے بعد ہی بات ہوتی ہے، سامنے بیٹھا جے ڈی وینس واشنگٹھن اور تل ابیب سے پوچھے بغیر کچھ نہیں بول سکتا۔ اور یہ سب جانتے ہیں۔ اگر یہ سب جانتے ہیں تو یہ نوراکشتی کس لئے ہورہی ہے؟ اس دنگل کا فائدہ کسے ہوریا ہے؟؟ اگر دنیا والے صرف اسرائیل اور اس کے شراکت دار نریندرا مودی کو جنگ سے باز رکھنے میں کامیاب ہو گئے تو یہ جنگ بند ہوگی، ورنہ نورا کشتی جاری رکھیں، ڈھم ڈھم ڈھم ، ڈھما ڈھم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور جب تک ٹرمپ کی ٹویٹ آتی رہے گی، یہ جنگ بھی جاری رہے گی!!!! تک دھنا دھن دھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *