رانا وحید بیورو چیف نوائے وقت
لاہور: ورلڈ ملک ڈے 2025 کی مناسبت سے پاکستان ڈیری ایسوسی ایشن (PDA) نے پنجاب فوڈ اتھارٹی (PFA) اور گلوبل الائنس فار امپرووڈ نیوٹریشن (GAIN) کے اشتراک سے ایک نیشنل سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ اس تقریب کا مقصد دودھ اور ڈیری سیکٹر کے عوامی صحت، غذائی تحفظ اور معاشی ترقی میں اہم کردار کو اجاگر کرنا تھا۔
سیمینار کے مہمانِ خصوصی صوبائی وزیر برائے اقلیتی امور رمیش سنگھ اروڑہ تھے، جبکہ اس موقع پر مختلف حکومتی اداروں، صنعت، تعلیمی حلقوں اور سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے ماہرین اور اسٹیک ہولڈرز نے بھی شرکت کی۔
اپنے خطاب میں رمیش سنگھ اروڑہ نے پاکستان میں غذائی قلت سے نمٹنے میں ڈیری مصنوعات کے کلیدی کردار پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ دودھ ایک مکمل غذا ہے اور خاص طور پر بچوں اور خواتین میں غذائیت کی بہتری کے لیے یہ کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کی حفاظت اور رسائی کو یقینی بنانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ حکومت، نجی شعبے کے ساتھ مل کر فوڈ سیفٹی قوانین پر عمل درآمد، صحت میں فرق کو کم کرنے، اور فارمَل ڈیری انڈسٹری کو مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
انہوں نے پاکستان ڈیری ایسوسی ایشن کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ عوامی صحت کے حوالے سے مکالمے کو فروغ دینا اور تمام متعلقہ فریقین کو اکٹھا کرنا قابلِ تحسین اقدام ہے۔
سیمینار کے دوران شرکاء نے پنجاب اسمبلی سے منظور شدہ “کم از کم پیسچرائزیشن قانون” پر فوری اور مؤثر عمل درآمد پر زور دیا۔ انہوں نے صوبائی حکومت سے غیر محفوظ اور غیر رجسٹرڈ دودھ سے عوام کو بچانے کے لیے سخت اقدامات کا مطالبہ کیا۔
شرکاء نے اس بات کی اہمیت پر زور دیا کہ ملک بھر میں یکساں فوڈ سیفٹی پروٹوکولز نافذ کیے جائیں تاکہ ہر شہری کو محفوظ اور غذائیت سے بھرپور دودھ فراہم کیا جا سکے جبکہ ماہرین نے فوڈ سیفٹی انسپکٹرز کے لیے تربیت، فنڈنگ اور وسائل میں اضافے کی ضرورت کو اجاگر کیا تاکہ قوانین پر مؤثر عمل درآمد ممکن ہو سکے۔
سیمینار کے دوران ایک معلوماتی پینل ڈسکشن بھی منعقد ہوئی، جس کی میزبانی خوراک اور زراعت کی ماہر محترمہ ماریا قریشی نے کی۔ پینل میں شامل
محمد عاصم جاوید، ڈائریکٹر جنرل، پنجاب فوڈ اتھارٹی،
ڈاکٹر عائشہ ملک، ماہر غذائیت و عوامی صحت کی مشیر، فائزن قریشی، ڈیری سپلائی چین اسپیشلسٹ،ڈاکٹر فاروق احمد، پروفیسر، یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز،محترمہ ثناء حسین، نمائندہ، GAIN پاکستان وغیرہ نے شرکت کی۔
نیشنل سیمینار ایک اجتماعی اقدام کے طور پر سامنے آیا تاکہ ہر پاکستانی کو محفوظ، سستا اور معیاری دودھ مہیا کیا جا سکے۔ پاکستان ڈیری ایسوسی ایشن نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ تمام شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایک صحت مند، فعال اور باقاعدہ ڈیری سیکٹر کی تشکیل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔