سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے جھوٹے دعووں کے نتیجے میں، برطانیہ میں کئی مساجد، اسلامی عمارات اور مہاجرین کو رہائش فراہم کرنے والے ہوٹلوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل
سٹاف رپورٹرنوائے وقت ، ڈان ٹی وی رپورٹ
لندن:برطانیہ کے علاقے ساؤتھ پورٹ میں گزشتہ سال ہونے والے مہلک حملے کے بعد، سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کے ڈیزائن اور پالیسیوں نے مسلمانوں اور تارکینِ وطن کے خلاف اشتعال انگیز اور نسل پرستانہ بیانیوں کے فروغ کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا۔
ترک خبر رساں ادارے انادولو کی رپورٹ کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس حوالے سے اپنی تجزیاتی رپورٹ شائع کی ہے، جس کی تحقیقات میں یہ انکشاف کیا گیا ہے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس نے برطانیہ میں مسلم اور تارکینِ وطن برادریوں کے خلاف ہونے والے فسادات میں جھوٹے بیانیے اور نقصان دہ مواد کے پھیلاؤ میں مرکزی کردار ادا کیا۔
رپورٹ میں ایکس کے اوپن سورس کوڈ اور عوامی طور پر دستیاب سافٹ ویئر کا تکنیکی تجزیہ کرتے ہوئے انکشاف کیا گیا کہ اس کا ری کمنڈیشن سسٹم (جسے کنٹینٹ رینکنگ الگورتھم بھی کہا جاتا ہے) بغیر کسی روک تھام اور نقصان سے بچاؤ کے خاطر خواہ حفاظتی اقدامات کے ایسے مواد کو ترجیح دیتا ہے جو اشتعال پیدا کرے، سخت ردِعمل، بحث و تکرار اور زیادہ انگیجمنٹ کا سبب بنے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے بگ ٹیک اکاونٹبیلیٹی شعبے کے سربراہ پیٹ ڈی برُن نے اس حوالے سے کہا ہے کہ ہمارا تجزیہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ایکس کے الگورتھم اور پالیسی فیصلوں نے گزشتہ برس برطانیہ بھر میں مسلم اور تارکین وطن مخالف تشدد کی لہر کے دوران خطرات میں اضافہ کیا، جو آج بھی انسانی حقوق کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔
29 جولائی 2024 کو ساؤتھ پورٹ میں ایکسل روداکوبانا کی جانب سے ہونے والے چاقو حملے کے بعد، برطانیہ میں دائیں بازو کے انتہاپسندوں کے فسادات پھوٹ پڑے تھے، جھوٹی آن لائن اطلاعات کے مطابق دعویٰ کیا گیا تھا کہ حملہ آور کارڈف ویلز میں پیدا ہونے والا برطانوی شہری اور مسلمان پناہ گزین ہے۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ان جھوٹے دعووں کے نتیجے میں، ملک بھر میں کئی مساجد، اسلامی عمارات اور مہاجرین کو رہائش فراہم کرنے والے ہوٹلوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔