مسلمان تارکین وطن برطانیہ پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں، سروے

سٹاف رپورٹرنوائے وقت ، ڈان ٹی وی رپورٹ

لندن:ایک سروے کے مطابق ہر 10 میں سے چار برطانوی شہریوں کا خیال ہے کہ مسلمان تارکین وطن کا برطانیہ پر منفی اثر ہے۔

ایک سروے کے مطابق ہر 10 میں سے چار برطانوی شہریوں کا خیال ہے کہ مسلمان تارکین وطن کا برطانیہ پر منفی اثر ہے اور نصف سے زائد کا خیال ہے کہ اسلام برطانوی اقدار سے مطابقت نہیں رکھتا۔

ایک امام نے ان نتائج کو ”انتہائی تشویش ناک‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ برطانیہ میں ” اونچی سطح کے مسلم مخالف جذبات ‘ کا اظہار ہیں۔

’’احمدیہ مسلم کمیونٹی‘‘ کی جانب سے یہ سروے اس کمیونٹی کے برطانیہ میں ہونے والے سب سے بڑے سالانہ اجتماع سے قبل کرایا گیا۔ اس اجتماع میں اس عقیدے کے 40 ہزار پیروکاروں کی شرکت متوقع ہے۔ اس اجتماع کو ‘ سالانہ جلسہ ‘ کا نام دیا جاتا ہے۔

منتظمین کا کہنا ہے کہ اس سال کے کنونشن کے دوران اسلام کے بارے میں شکوک و شبہات رکھنے والے اور عقیدے کے بارے میں سوالات کرنے والے بھی اجتماع میں شریک ہو سکیں گے۔

جولائی کے وسط میں برطانیہ میں کیے گئے YouGov سروے میں 2,130 بالغ افراد نے حصہ لیا۔ اس میں لوگوں سے پوچھا گیا کہ کیا وہ یہ سمجھتے ہیں کہ مذہب کے لحاظ سے تارکین وطن کے مختلف گروہوں کا برطانیہ پر عام طور پر مثبت یا منفی اثر پڑتا ہے۔

لندن کے ایک پارک میں بچھی جائے نمازلندن کے ایک پارک میں بچھی جائے نماز
برطانیہ میں 41 فیصد رائے دہندگان نے کہا کہ مسلم تارکین وطن کا منفی اثر ہے، تاہم دیگر مذہبی گروہوں کے لیے ایسے جذبات کی شرح بہت کم رہی۔

41 فیصد رائے دہندگان نے کہا کہ مسلم تارکین وطن کا منفی اثر ہے، تاہم دیگر مذہبی گروہوں کے لیے ایسے جذبات کی شرح بہت کم رہی۔ رائے دہندگان میں سے تقریباﹰ 15 فیصد نے ہندو تارکین وطن کے بارے میں، 14 فیصد نے سکھ تارکین وطن کے بارے میں، 13 فیصد نے یہودی تارکین وطن کے بارے میں جبکہ سات فیصد نے مسیحی تارکین وطن کے بارے میں کہا کہ ان کا برطانیہ پر منفی اثر ہے۔

صرف ایک چوتھائی (24 فیصد) جواب دہندگان کا خیال ہے کہ مسلم تارکین وطن کا برطانیہ پر مثبت اثر پڑا ہے، جو کسی بھی دوسرے مذہب کے مقابلے میں کم ہے۔

سروے میں حصہ لینے والے 53 فیصد افراد کا کہنا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اسلام برطانوی اقدار سے مطابقت نہیں رکھتا جبکہ 25 فیصد کا کہنا تھا کہ وہ اس بارے میں نہیں جانتے۔

30 سالہ صباح احمدی نے، جنہیں آن لائن ”ینگ امام‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، کہا کہ ان کا ماننا ہے کہ لوگوں میں خوف ”اسلام کی تفہیم کی کمی کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔‘‘

انہوں نے کہا، ”ایک برطانوی مسلمان کی حیثیت سے یہ سوچنا افسوسناک ہے کہ ہمیں اپنے مذہبی عقائد کی وجہ سے ناپسند کیا جاتا ہے یا ہم سے نفرت کی جاتی ہے۔ یہ غیر منصفانہ ہے کیونکہ برطانیہ میں مسلم تارکین وطن کی ایک بڑی اکثریت مثبت کردار ادا کر رہی ہے۔‘‘

سروے کے نتائج کے مطابق نوجوان برطانوی شہریوں میں یہ إحساس کم ہے کہ مسلمان تارکین وطن کے منفی اثرات ہیں اور یہ کہ اسلام برطانوی اقدار سے مطابقت نہیں رکھتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *