بلوچستان :فوجی عدالتوں کے بعد نئی طرز کی ٰعدالتیں:من پسند فیصلوں کے لیے مقدمات خفیہ اور خصوصی عدالتی نظام کے تحت چلائے جائیں گے

ججوں، وکلا، گواہوں اور مقدمے سے متعلق دیگر افراد کی شناخت کو چھپایا جائے گا جبکہ گواہوں کو کوڈ یا علامتی نام دیے جائیں گے

سٹاف رپورٹرنوائے وقت ، ڈان ٹی وی ، اوکے ٹی وی رپورٹ

کوئٹہ :بلوچستان اسمبلی نے انسداد دہشتگردی قانون میں ترمیم کرکے ایسی نئی شق شامل کر لی ہے جس کے تحت صوبے میں دہشتگردی کے مخصوص مقدمات اب عام عدالتوں کی بجائے ایک خفیہ اور خصوصی عدالتی نظام کے تحت چلائے جائیں گے۔
اس نظام میں ججوں، وکلا، گواہوں اور مقدمے سے متعلق دیگر افراد کی شناخت کو چھپایا جائے گا جبکہ گواہوں کو کوڈ یا علامتی نام دیے جائیں گے۔
ضرورت پڑنے پر مقدمات کی سماعت عدالتوں کی بجائے جیل اور مخصوص مقامات سے ورچوئل طریقے اور الیکٹرانک ذرائع سے بھی ہو سکے گی جبکہ شناخت چھپانے کے لیے آواز بدلنے کی ٹیکنالوجی کا استعمال بھی کیا جا سکے گا۔

انسداد دہشت گردی بلوچستان ترمیمی ایکٹ 2026 کے نام سے یہ قانون مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے پارلیمانی سیکریٹری زرین مگسی نے اسمبلی میں پیش کیا جس کی ایوان میں صرف گوادر سے تعلق رکھنے والے ’حق دو تحریک‘ کے رکن اور جماعت اسلامی کے صوبائی امیر مولانا ہدایت الرحمان نے مخالفت کی تاہم حکومتی ارکان کی کثرت رائے سے اسے منظور کر لیا گیا۔
اس دوران اپوزیشن جماعتوں جمعیت علمائے اسلام اور نیشنل پارٹی سے تعلق رکھنے والے ارکان غیرحاضر تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *