دنیا بھر میں صحافتی آزادی نمایاں طور پر کم ہوکر 50 سال کی نچلی ترین سطح پر پہنچ گئی

کچھ حکومتوں کی طرف سے صحافتی آزادی پر قدغن لگانے کے بہانے کے طور پر استعمال کی جا رہی ہیں،پاکستان میں صحافت پیسے، دھمکی اور جبرکے ساتھ کنٹرولڈ

سٹاف رپورٹرنوائے وقت ، ڈان ٹی وی ، اوکے ٹی وی رپورٹ

لندن:جمہوریت پر مبنی تھنک ٹینک کی جاری ہونے والی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر میں صحافتی آزادی پچھلے 5 برسوں میں نمایاں طور پر کم ہوئی ہے اور گزشتہ 50 برسوں کی نچلی ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔

اسٹاک ہوم میں قائم انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ڈیموکریسی اینڈ الیکٹورل اسسٹنس (آئیڈیا) کی رپورٹ کے مطابق افغانستان، برکینا فاسو اور میانمار (جو پہلے ہی صحافتی آزادی کے کمزور ترین ممالک میں شمار ہوتے ہیں) نے آزادی صحافت میں سب سے بڑی گراوٹ کا سامنا کیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آزادی صحافت میں جنوبی کوریا میں چوتھی سب سے بڑی کمی دیکھنے میں آئی، جس کی وجہ حکومت اور اس کے سیاسی اتحادیوں کی جانب سے صحافیوں کے خلاف ہتک عزت کے مقدمات میں اضافے اور صحافیوں کے گھروں پر چھاپوں کو قرار دیا گیا۔

آئیڈیا کے سیکریٹری جنرل کیون کاساس-زامورا نے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ دنیا میں جمہوریت کی موجودہ حالت تشویشناک ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا کے نصف سے زیادہ ممالک (54 فیصد) نے 2019 سے 2024 کے درمیان جمہوریت کے 5 کلیدی اشاریوں میں سے کم از کم ایک میں کمی درج کی۔

کاساس-زامورا نے کہا کہ ہماری رپورٹ کا سب سے اہم نتیجہ یہ ہے کہ دنیا بھر میں صحافتی آزادی میں بہت تیزی سے کمی آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 2019 سے 2024 کے درمیان یہ پچھلے 50 برسوں کی سب سے بڑی گراوٹ ہے، ہم نے کبھی کسی کلیدی جمہوری صحت کے اشاریے میں اتنی تیز کمی نہیں دیکھی۔

صحافتی آزادی میں کمی دنیا کے 43 ممالک میں دیکھی گئی، جن میں افریقہ کے 15 اور یورپ کے 15 ممالک بھی شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک زہریلا امتزاج سامنے آ رہا ہے، جس میں ایک طرف تو حکومتوں کی سخت مداخلت شامل ہے، ان میں سے کچھ ’وبا کے دوران کیے گئے اقدامات کی باقیات ہیں‘۔

آئیڈیا کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’آپ کے پاس جھوٹی معلومات کا انتہائی منفی اثر ہے، جن میں سے کچھ واقعی گمراہ کن معلومات ہیں‘ اور کچھ حکومتوں کی طرف سے صحافتی آزادی پر قدغن لگانے کے بہانے کے طور پر استعمال کی جا رہی ہیں۔

کاساس-زامورا نے کہا کہ تھنک ٹینک نے دنیا بھر میں روایتی میڈیا کے ارتکاز اور بہت سے ممالک میں مقامی میڈیا کے ختم ہو جانے پر بھی تشویش ظاہر کی ہے، جو جمہوری مباحثے کو سہارا دینے میں بہت اہم کردار ادا کرتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ رپورٹ صرف 2019 سے 2024 کے عرصے پر محیط ہے اور اس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جنوری میں وائٹ ہاؤس واپسی کے ابتدائی اثرات شامل نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ لیکن گزشتہ سال کے آخر میں ہونے والے انتخابات اور 2025 کے ابتدائی چند مہینوں میں جو کچھ ہم نے دیکھا وہ کافی پریشان کن ہے، چونکہ امریکا میں جو کچھ ہوتا ہے اس کے اثرات دنیا بھر میں پڑتے ہیں، یہ جمہوریت کے لیے عالمی سطح پر اچھا شگون نہیں ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *