برطانیہ: 2 لڑکیوں کو جنسی غلام بنانے پر ’گرومنگ گینگ‘ کے 7 ارکان کو 35 سال تک قید

جنوبی ایشیائی نسل کے مردوں نے مانچسٹر کے قریب روچڈیل میں 2 سفید فام نوعمر لڑکیوں کی پرورش کی، اور پھر 2001 کے بعد 5 سال تک ان کے ساتھ بار بار عصمت دری کی

سٹاف رپورٹرنوائے وقت ، ڈان ٹی وی رپورٹ

روچڈیل:برطانیہ کے علاقے روچڈیل (Rochdale) میں گرومنگ گینگ کے مرکزی کردار محمد زاہد کو عدالت نے 35 سال قید کی سزا سنائی ہے۔

عدالتی فیصلے کے مطابق گینگ کے دیگر 6 اراکین کو بھی طویل قید کی سزائیں دی گئی ہیں۔

مقدمے کے دوران بتایا گیا کہ “باس مین” کہلانے والے محمد زاہد نے 13 سال کی عمر کی کمسن لڑکیوں کو نشانہ بنایا اور انہیں جنسی استحصال کا شکار بنایا۔ متاثرہ بچیوں کو منشیات، شراب اور سگریٹ کا عادی بنا کر ان پر قابو پایا گیا، جبکہ گینگ نے رہائش اور دیگر سہولتیں فراہم کر کے انہیں اپنے شکنجے میں جکڑ رکھا۔

عدالت نے اس گھناؤنے جرم کو انسانی وقار اور اخلاقیات کے منافی قرار دیتے ہوئے سخت سزا سنائی۔

35 سال کی طویل ترین سزا مارکیٹ میں اسٹال لگانے والے 65 سالہ محمد زاہد کو ہوئی، جو خود 3 بچوں کا باپ ہے، اور اس نے مستقل بنیادوں پر جنسی تعلقات بنانے کے بدلے متاثرہ لڑکیوں کو مفت زیر جامہ، پیسے، کھانے پینے کا سامان بھی دیا۔

مانچسٹر کا یہ رہائشی 20 جرائم کا مجرم قرار پایا، جس میں عصمت دری، ایک بچے کے ساتھ بے حیائی، اور لڑکی کے ساتھ غیر قانونی جنسی تعلق حاصل کرنے کی کوشش شامل تھی۔

روچڈیل مارکیٹ میں ہی کام کرنے والے 67 سالہ تاجر مشتاق احمد اور 50 سالہ کاسر بشیر کو بالترتیب 27 سال اور 29 سال قید کی سزا سنائی گئی،

ان دونوں کا تعلق اولڈہم سے ہے، دونوں کو ایک بچے کے ساتھ عصمت دری اور بے حیائی سمیت جرائم میں سزا سنائی گئی۔

مقدمے کی سماعت شروع ہونے سے پہلے ہی مفرور ہو جانے والے بشیر کو غیر حاضری میں سزا سنائی گئی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *