رواں برس جون کے وسط سے یوٹیوب اور ایکس پر ایسی پروپیگنڈا مہموں کے لیے کم از کم بھی 42 ملین یورو (تقریباﹰ 49 ملین ڈالر) خرچ
اسرائیلی حکومت ایک ایسی تشہیری مہم چلا رہی ہے جس میں خوراک کی شدید قلت کو کم کر کے دکھانا ہے
انٹرنیشنل رپورٹر نوائے وقت ، ڈان ٹی وی ، اوکے ٹی وی رپورٹ
لندن: یورپی میڈیا کے مطابق اسرائیل پروپیگنڈا کے لیے کئی ملین یورو خرچ کر رہا ہے اور اس مہم کا ہدف یورپی صارفین ہیں۔ اس کے لیے تشہیری ویڈیوز کے ایک پورے سلسلے کا مقصد جنگ زدہ غزہ پٹی میں خوراک کی شدید قلت کو کم کر کے دکھانا ہے۔
یورو وژن نیوز سپاٹ لائٹ کے ارکان کی طرف سے یورپی ممالک کی قومی سرحدوں کے پار تک کی گئی چھان بین سے پتا چلا کہ اسرائیلی ریاست نے حکومتی سطح پر کام کرنے والی اپنی ایڈورٹائزنگ ایجنسی کو استعمال کرتے ہوئے اور مالی ادائیگیوں کے ساتھ ایسی بین الاقوامی مہمیں چلائی ہیں، جن کا مقصد یورپ کے کئی حصوں اور شمالی امریکہ میں رائے عامہ پر اثر انداز ہوتے ہوئے اسے اپنے حق میں موڑنا ہے۔
گزشتہ کم از کم ایک سال سے ایک اسرائیلی یوٹیوب چینل ایسی تشہیری مہمیں چلا رہا ہے، جو اقوام متحدہ کے اداروں کو ساکھ خراب کرتی ہیں اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ نگران اداروں اور تنظیموں کی طرف سے اخذ کردہ نتائج کو چیلنج کرتی ہیں۔
ایک حکومتی دستاویز سے انکشاف ہوا ہے کہ رواں برس جون کے وسط سے یوٹیوب اور ایکس جیسے پلیٹ فارمز پر ایسی پروپیگنڈا مہموں کے لیے کم از کم بھی 42 ملین یورو (تقریباﹰ 49 ملین ڈالر) خرچ کیے جا چکے ہیں۔ یہ اقدامات اسرائیل کی اس وسیع تر عوامی سفارت کاری کی اسٹریٹیجی کا حصہ ہیں، جسے ”ہسبارا‘‘ کہا جاتا ہے۔ عبرانی زبان میں اس اصطلاح کا مطلب ”وضاحت کرنا‘‘ ہے اور اسے اسرائیل کی ان پروموشنل کوششوں کو بیان کرنے کے استعمال کیا جاتا ہے، جن کا مقصد بیرونی دنیا میں اسرائیل کی ساکھ بہتر بنانا ہے۔
اس سال 22 اگست کو، اسی دن جب انٹیگریٹڈ فوڈ سکیورٹی فیز کلاسیفیکیشن (آئی پی سی) نے اپنے اس جائزے کی تفصیلات شائع کیں کہ غزہ پٹی کے زیادہ تر حصوں میں قحط پایا جاتا ہے، اسرائیلی حکومت کے تشہیری ادارے نے ایک نئی مہم شروع کر دی، جس میں قحط کی تردید کی گئی۔