حکومت نے کچھ نہ کیا:مغوی اسسٹنٹ کمشنر زیارت بیٹے سمیت اغوا کاروں کے ہاتھوں قتل

چند روز قبل اغوا کاروں نے اسسٹنٹ کمشنر زیارت محمد افضل اور ان کے بیٹے کی ویڈیو بھی جاری کی تھی، جس میں وہ اغوا کاروں کی ڈیمانڈ پوری کرنے کی اپیل کررہے تھے

سٹاف رپورٹر نوائے وقت ، ڈان ٹی وی رپورٹ

کوئٹہ:بلوچستان کے ضلع زیارت سے ڈیڑھ ماہ قبل اغوا ہونے والے اسسٹنٹ کمشنر کے قتل کی اطلاعات موصول ہوئی ہی
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ایک سرکاری بیان میں اسسٹنٹ کمشنر محمد افضل کے قتل کی تصدیق کی ہے۔ اُن کا ایک بیان کہنا تھا کہ ’شہید اسسٹنٹ کمشنر محمد افضل نے فرض کی ادائیگی کے دوران اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔‘

بلوچستان کے سیاحتی مقام زیارت سے اغوا ہونے والے اسسٹنٹ کمشنر محمد افضل باقی کی لاش اتوار کو ہرنائی سے مل گئی۔

لیویز ہیڈ کوارٹر زیارت کے رسالدار محمد عمران دومڑ نے بتایا کہ 10 اگست کو زیارت کے علاقے زہزری سے محمد افضل اور ان کے بیٹے کو نامعلوم افراد نے اغوا کر لیا تھا۔

کالعدم علیحدگی پسند تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے اغوا کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

عمران دومڑ نے بتایا کہ آج ہرنائی کے علاقے زردالوں میں ایک لاش ملنے کی اطلاع پر لیویز فورس نے موقعے پر پہنچ کر لاش کو ہسپتال منتقل کیا، جہاں ان کی شناخت اسسٹنٹ کمشنر محمد افضل کے طور پر ہو گئی۔

اسسٹنٹ کمشنر محمد افضل باقی اور ان کے 25 سے 30 سالہ بیٹے مستنصر بلال کو 10 اگست 2025 کو اس وقت اغوا کیا گیا تھا جب وہ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ زیارت سے تقریباً 20 کلومیٹر دور علاقے زیزری میں پکنک منا رہے تھے۔ مسلح افراد نے حملہ کر کے انہیں ڈرائیور اور محافظوں سمیت یرغمال بنا لیا۔ بعد ازاں ڈرائیور اور محافظوں کو چھوڑ دیا گیا، جبکہ باپ بیٹے کو پیدل پہاڑوں کی طرف لے جایا گیا۔ اغوا کاروں نے ان کی سرکاری گاڑی کو بھی آگ لگا دی تھی۔
حکومت بلوچستان نے اغوا کاروں کی اطلاع دینے پر پانچ کروڑ روپے انعام کا اعلان کیا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *