سہیل آفریدی کے وزیراعلیٰ بننے میں رکاوٹ کی پہلی شہادت:گورنر خیبرپختونخوا نے علی امین گنڈا پور کا استعفیٰ موصول ہونے کی تردید کر دی
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے علی امین گنڈا پور کا ملٹری سیکرٹری کو استعفی موصول ہونا فیک نیوز قرار دے دیا
سٹاف رپورٹرنوائے وقت ، ڈان ٹی وی رپورٹ
اسلام آباد:وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کا استعفیٰ معمہ بن گیا جب کہ اس حوالے سے گورنر ہاؤس اور پی ٹی آئی ذرائع نے متضاد دعوے کیے۔
ذرائع وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ نے کہا کہ ہم نے تو استعفیٰ کل ہی گورنرہاؤس کو بھجوادیا تھا، اب وزیر اعلیٰ کے استعفے پر مزید کارروائی کرنا گورنر ہاؤس کا کام ہے۔
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے علی امین گنڈا پور کا استعفیٰ موصول ہونے کی تردید کر دی ہے۔
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ میرے پاس آفیشلی وزیراعلیٰ کا استعفی نہیں آیا، جب استعفی آئےگا تو قانون کے مطابق کارروائی کروں گا۔
فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا ملٹری سیکرٹری کو استعفی موصول ہونا فیک نیوز ہے،
اس صورتحال پر رد عمل دیتے ہوئے پی ٹی آئی سینئر رہنما شیخ وقاص اکرم نے گورنر ہاوس کی جانب سے علی امین کے استعفے کے وصول ہونے والی کاپی شیئر کردی، گورنر ہاوس اسٹاف نے استعفی رات 10:57 منٹ پر وصول کیا۔
شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ گورنر خیبر پختونخوا کو علی امین کا استعفی کل رات ہی موصول ہوگیا تھا، گورنر کے ایم ایس سے کوارڈینیشن کے بعد کل رات پونےگیارہ بجے گورنر ہاؤس کے اسٹاف نے استعفی وصول کیا۔
علی امین گنڈاپور نے اپنے استعفے میں لکھا کہ قائد عمران خان کے حکم کی تعمیل میں وزارتِ اعلیٰ چھوڑ رہا ہوں، وزارتِ اعلیٰ میرے لیے اعزاز تھی، استعفیٰ قیادت کے فیصلے پر دیا، جب عہدہ سنبھالا تو صوبہ مالی بحران اور دہشت گردی کے سنگین چیلنجز سے دوچار تھا۔
انہوں نے لکھا کہ ڈیڑھ سال میں صوبے کو مالی استحکام کی راہ پر گامزن کیا، دہشت گردی کے خلاف جرت اور حوصلے سے اقدامات کیے، عمران خان کی رہنمائی میں صوبے میں بڑے ترقیاتی منصوبے شروع کیے۔
گنڈا پور نے لکھا کہ عمران خان، پارٹی کارکنان، کابینہ ارکان، پارٹی اراکین اسمبلی اور بیوروکریسی کا شکر گزار ہوں، تمام چیلنجز کے باوجود عوام کی خدمت خلوص نیت سے کی، میں ہمیشہ پاکستان کے مفاد میں فیصلے کرتا رہا ہوں۔
انہوں نے اپنے استعفے کے آخر میں پاکستان زندہ باد، پاکستان تحریک انصاف پائندہ باد بھی لکھا۔