سارا ڈرامہ ایکسٹینشن کا ہے ۔ٹرمپ سے بھاو بڑھانے کےلیے کہ مجھے میرے ملک میں بڑی مخالفت کا سامنا ہے
سٹاف رپورٹرز، بیوروچیف ، رپورٹرز، نمائندگان نوائے وقت، ڈان ٹی وی رپورٹ
لاہو: سخت حفاظتی انتظامات کے باوجود فضا میں کشیدگی برقرار رہی، ملتان روڈ ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند رہی، پنڈی اسلام آباد میں موبائل انٹرنیٹ سروس وزیر داخلہ کی منظوری سے بند کی گئی۔
پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں تحریک لبیک کے مارچ کے پیشِ نظر شہر کے داخلی اور خارجی راستے بند ہیں جبکہ موبائل انٹرنیٹ سروس بھی معطل ہے۔
تحریک لبیک نے 10 اکتوبر کو اسلام آباد میں ’لبیک یا اقصیٰ ملین مارچ‘ کے نام سے احتجاج کی کال دے رکھی ہے۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کو تحریک لبیک کی جانب سے غزہ کے حق میں احتجاج کی کال پر کنٹینرز لگا کر مکمل سیل کردیا گیا جس کے باعث سرکاری و نجی دفاتر، اسکولوں اور عدالتوں میں حاضری معمول سے کم رہی جبکہ شہری شدید مشکلات سے دوچار ہوئے۔
اسلام آباد اور راولپنڈی کو ملانے والی مرکزی شاہراہ فیض آباد انٹرچینج کے مقام پر مکمل بند کردی گئی اور پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی۔ دفاتر جانے والے سرکاری و نجی ملازمین بر وقت نہ پہنچ سکے، جبکہ میٹرو بس اور فیڈر روٹس کی بندش نے شہریوں کو مزید پریشان کردیا۔ پبلک ٹرانسپورٹ اور موٹرسائیکل سروس فراہم کرنے والوں نے من مانے کرائے وصول کیے۔
فیض آباد اور ریڈ زون کے مکمل سیل ہونے کے باعث سپریم کورٹ، ہائی کورٹ اور ماتحت عدالتوں میں سائلین اور وکلاء نہ پہنچ سکے جس سے کیس ملتوی کرنا پڑے۔ اسی طرح اسکولوں میں بھی حاضری انتہائی کم رہی۔ اسپتال جانے والے مریضوں کو فیض آباد انٹرچینج کی بندش کے باعث شدید مشکلات پیش آئیں۔
اسلام آباد ٹریفک پولیس نے متبادل راستے فراہم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد میں ہیوی ٹریفک کے داخلے پر اگلے حکم تک پابندی ہوگی۔ پولیس کے مطابق شہری پارک روڈ، ایکسپریس وے، لہتراڑ روڈ اور کھنہ کے راستے استعمال کریں، جبکہ ائیرپورٹ جانے والے سری نگر ہائی وے سے سفر کریں۔
وزارت داخلہ نے راولپنڈی اور اسلام آباد میں موبائل انٹرنیٹ سروس معطل کرنے کے لیے پی ٹی اے کو مراسلہ جاری کیا تھا۔
مراسلے میں کہا گیا تھا کہ جڑواں شہروں میں موبائل انٹرنیٹ سروس گزشتہ رات 12 بجے سے غیر معینہ مدت کے لیے معطل رہے گی۔
جمعرات کو راولپنڈی کی ضلعی انتظامیہ نے شہر میں 11 اکتوبر تک دفعہ 144 نافذ کر دی تھی۔
ڈپٹی کمشنر راولپنڈی حسن وقار چیمہ کے دفتر سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا تھا کہ شہر میں 11 اکتوبر تک ہر قسم کے احتجاج، دھرنے، جلسے جلوس اور ریلیوں پر پابندی عائد رہے گی۔
نوٹی فکیشن میں مزید کہا گیا تھا کہ موجودہ صورتحال میں حساس اور اہم تنصیبات کے قریب پر تشدد کارروائیوں کا خدشہ ہے۔