میٹروپولیٹن پولیس نے معذور،عمر رسیدہ افراد سمیت 474 افراد کو گرفتار کرلیا، پابندی کا سامنا کرنیوالی ’فلسطین ایکشن‘ کی رکنیت یا اس کی حمایت مجرمانہ فعل ہے، 14 سال تک قید ہو سکتی ہے
سٹاف رپورٹرز نوائے وقت ، ڈان ٹی وی رپورٹ
لندن:لندن میں گرفتاریوں کا 10 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا۔ پابندی کا سامنا کرنے والی تنظیم ’فلسطین ایکشن‘ کے حق میں مظاہرے پر 474 افراد کو گرفتار کرلیا گیا۔
وہ فلسطین ایکشن گروپ پر حکومت کی جانب سے لگائی گئی پابندی کے خلاف سب سے بڑے مظاہرے میں شریک تھے۔
پولیٹن پولیس کے مطابق مرکزی لندن میں مظاہرے سے پہلے دیگر برطانوی شہروں سے بھی پولیس بلائی گئی تاکہ ایک ’’اہم سیکیورٹی انتظام‘‘ یقینی بنایا جا سکے۔
مظاہرہ پارلیمنٹ اسکوائر میں ہوا جہاں منتظمین کا کہنا تھا کہ تقریباً ایک ہزار افراد شریک ہوئے۔جبکہ پولیس نے اندازہ لگایا کہ شرکاء کی تعداد 500 سے 600 تھی۔
گرفتاریاں زیادہ تر ان افراد کی ہوئیں جن کے پاس ایسے پلے کارڈ یا بینر تھے جن پر فلسطین ایکشن کی حمایت درج تھی۔
پولیس نے مزید آٹھ افراد کو دیگر جرائم میں حراست میں لیا جن میں پانچ اہلکاروں پر حملے کے الزامات بھی شامل ہیں۔ زیادہ تر گرفتار شدگان کو موقع پر ضمانت دے کر رہا کر دیا گیا۔
برطانوی وزیر داخلہ یویٹ کوپر نے اس اقدام کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی عدم تشدد پر مبنی تنظیم نہیں ہے۔ برطانیہ کی قومی سلامتی اور عوامی تحفظ ہماری پہلی ترجیح ہے۔