ہم سیاسی نہیں،لیکن گفتگو ساری سیاسی:خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کو مقامی سیاسی پشت پناہی حاصل ہے: ترجمان فوج

بدقسمتی سے خیبرپختونخوا میں سوچے سمجھے منصوبے کے تحت دہشتگردوں کو جگہ دی گئی، نیشل ایکشن پلان پر اتفاقِ رائے ہوا تھا مگر عمل درآمد نہ ہو سکا،آئی ایس پی آر

سٹاف رپورٹرز، نوائے وقت، ڈان ٹی وی رپورٹ

پشاور:پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے جمعے کی سہ پہر کو پشاور میں ایک پریس کانفرنس کو بتایا کہ خیبر پختونخوا میں ’دہشت گردی کے پیچھے ایک دہشت گردی/جرائم کا گٹھ جوڑ ہے جس کو مکمل طور پر مقامی اور سیاسی پشت پناہی حاصل ہے۔‘

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ’میرے یہاں آنے کا مقصد خیبر پختونخوا کے غیور عوام کے درمیان بیٹھ کر دہشت گردی کے خلاف اس جنگ کا احاطہ کرنا ہے اور اس جنگ میں ان کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’خیبرپختونخوا میں سوچے سمجھے منصوبے کے تحت دہشت گردوں کو جگہ دی گئی۔ صوبے میں دہشت گردی کے پیچھے سیاسی اور مجرمانہ گٹھ جوڑ ہے جس کا خمیازہ خیبرپختونخوا کے عوام بھگت رہے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ نیشل ایکشن پلان پر اتفاقِ رائے ہوا تھا مگر عمل درآمد نہ ہو سکا، جس کی وجہ سے دہشت گردی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *