ہڑپہ تاریخی شہر:بنیادی سہولیات سے محروم، تحصیل کا درجہ دیا جائے، نوید اسلم لودھی نے عوامی آواز اسمبلی میں پہنچا کر مثبت سیاسی روایت قائم کردی

رانا وحید بیوروچیف ڈان ٹی وی نوائے وقت

ڈان ٹی وی یو کے کی رپورٹ میں ہڑپہ پر ایک نظر

ساہیوال:ہڑپہ تاریخی عظمت کا حامل شہر، تحصیل کا درجہ وقت کی ضرورت ہے۔
عمران فضل کھوکھر کے مطابق ہڑپہ، جو دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں سے ایک “وادی سندھ کی تہذیب” کا مرکز رہا ہے، آج بھی دنیا بھر کے مؤرخین، ماہرین آثارِ قدیمہ اور سیاحوں کے لیے دلچسپی کا باعث ہے۔ پاکستان کے ضلع ساہیوال میں واقع یہ شہر نہ صرف ہمارے قومی ورثے کا حصہ ہے بلکہ عالمی سطح پر ایک تاریخی علامت کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔ ایسے عظیم ماضی اور منفرد ثقافتی حیثیت کے حامل شہر کو آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم رکھنا لمحہ فکریہ ہے۔ہڑپہ میں کروڑوں روپے کے ترقیاتی کاموں کے باوجود جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر ابلتے گٹر سمجھ سے بالاتر ہے اتنا پیسہ خرچ کرنے کے باوجود ہڑپہ شہر اور اس کی گلیاں بھی اثار قدیمہ کا حصہ نظر اتا ہے
ہڑپہ کی تاریخ، عجائب گھر، اور کھدائی شدہ آثار سیاحتی لحاظ سے بھی ایک خزانہ ہیں۔ اگر یہاں بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنایا جائے، سیاحوں کے لیے سہولیات فراہم کی جائیں اور اسے انتظامی طور پر مضبوط کیا جائے تو یہ شہر نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی سطح پر سیاحوں کی توجہ کا مرکز بن سکتا ہے۔ تحصیل کا درجہ اس سلسلے میں پہلا اور سب سے اہم قدم ہوگا۔
ہڑپہ کے عوام گزشتہ کئی برسوں سے یہ مطالبہ کرتے آ رہے ہیں کہ ان کے شہر کو اس کی تاریخی حیثیت کے مطابق مقام دیا جائے۔ نوید اسلم لودھی نے عوامی آواز کو اسمبلی میں پہنچا کر ایک مثبت سیاسی روایت قائم کی ہے۔ اب یہ ذمہ داری حکومتِ پنجاب اور متعلقہ اداروں پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اس قرارداد کو عملی شکل دے کر عوام کا دیرینہ مطالبہ پورا کریں
ہڑپہ ایک تاریخی ورثہ ہے جو نہ صرف ہماری پہچان ہے بلکہ پاکستان کی ثقافتی دولت بھی ہے۔ اس کی ترقی، تحفظ اور پہچان کو برقرار رکھنے کے لیے اسے انتظامی طور پر مضبوط بنانا ہوگا۔ تحصیل کا درجہ نہ صرف عوام کی فلاح کا ذریعہ بنے گا بلکہ یہ پاکستان کے ثقافتی تشخص کو عالمی سطح پر مزید مستحکم کرے گا۔ ہمیں امید ہے کہ حکومت اس قرارداد پر عملدرآمد کر کے تاریخ کے اس روشن باب کو ایک نئے دور میں داخل کرے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *