غزل

   

ثمینہ رحمت منال۔۔۔۔۔انگلینڈ

میرے گھڑے میں پانی آج بھی ہے
تو دل کا جانی آج بھی ہے

ہر کنویں سے پانی بھرنے کی
وہ ریت پرانی آج بھی ہے

کل تک بھی بہت تجھ جیسے تھے
کوئی تیرا ثانی آج بھی ہے

جس نے یہ دیس بنایا تھا
وہ اس کا بانی آج بھی ہے

کل تک بھی یہ جیون مہلت تھا
یہ دنیا فانی آج بھی ہے

میں کل بھی تھی تیرے قبضے میں
میں نے تیری مانی آج بھی ہے

کل بھی تھے اس میں تارے جڑے
یہ چنری دھانی آج بھی ہے

کل تک بھی تجھے ہنسانا تھا
اور بات یہ ٹھانی آج بھی ہے

کل تک تو جس کا راجہ تھا
وہ تیری رانی آج بھی ہے

جس نے میری ماں کو جنم دیا
یادوں میں وہ نانی آج بھی ہے

جس کوکھ نے مردہ بچے جنے
وہ مردہ دانی آج بھی ہے

جس آنکھ سے دریا بہہ نکلے
اس آنکھ میں پانی آج بھی ہے

جو چھتری سر پہ رکھی تھی
وہ چھتری تانی آج بھی ہے

جس دل میں ماتم سدا رہا
وہاں نوحہ خوانی آج بھی ہے

جو تو نے مجھ کو سونپی تھی
وہ پاس نشانی آج بھی ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *