کورٹ رپورٹرنوائے وقت ، ڈان ٹی وی ، اوکے ٹی وی رپورٹ
’27ویں آئینی ترمیم آئین پر سنگین حملہ‘قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ کے سینئر ترین ججز جسٹس منصور اور جسٹس اطہر نے عہدے سے استعفی دے دیا ۔27ویں آئینی ترمیم پر اختلاف رائے کا اظہار کرتے ہوئے سپریم کورٹ آف پاکستان کے سینیئر ترین جج، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ مستعفی ہو گئے ہیں۔ جسٹس منصور علی شاہ نے اپنا استعفیٰ صدر کو بھجوا دیا ہے۔
جمعرات کو اپنے عہدوں سے مستعفی ہونے کے بعد جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ نے اپنے چیمبرز بھی خالی کر دیے ہیں۔
جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے استعفے میں لکھا ہے کہ ’27ویں آئینی ترمیم آئین پاکستان پر ایک سنگین حملہ ہے، جس نے آئین پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ہے۔‘
’عدلیہ کو حکومت کے ماتحت بنا دیا گیا ہے اور ہماری آئینی جمہوریت کی رُوح پر کاری ضرب لگائی گئی ہے۔ ملک کی واحد اعلٰی ترین عدالت کو منقسم اور عدلیہ کی آزادی کو پامال کر کے پاکستان کو دہائیوں پیچھے دھکیل دیا گیا ہے۔‘
انہوں نے مزید لکھا کہ ’اس عہدے سے وابستہ رہنا نہ صرف ایک آئینی دراندازی پر خاموش رضامندی ہوتی، بلکہ ایسی عدالت میں بیٹھے رہنے کے مترادف ہوتا جس کی آئینی آواز مکمل طور پر دبا دی گئی ہے۔‘
’26ویں آئینی ترمیم کے برعکس، جب سپریم کورٹ کے پاس ترمیم کی آئینی جانچ کا اختیار موجود تھا، 27ویں آئینی ترمیم اس اختیار کو بھی ختم کر چکی ہے۔‘
جسٹس منصور علی شاہ کے مطابق ’اس حالت میں نہ تو میں آئین کا دفاع کر سکتا ہوں اور نہ اس ترمیم کا عدالتی جائزہ لے سکتا ہوں جس نے آئینی ڈھانچے کو بگاڑ دیا ہے۔‘
’27ویں آئینی ترمیم نے سپریم کورٹ آف پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا ہے، آئین جس کی پاسداری کا میں نے حلف لیا تھا اب موجود نہیں رہا۔‘