رپورٹ و تصاویر بیوروچیف نوائے وقت ، ڈان ٹی وی
پشاور:خیبرپختونخوا میں سیلاب سے 780افراد جاں بحق ہو گئے جبکہ اس دوران درجنوں افراد لاپتہ ہیں، اس دوران سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں متعدی بیماریاں پھوٹ پڑیں۔
خیبرپختونخوا میں بارشوں اور سیلاب کے نتیجے میں ہونے والی اموات کی تعداد 780 تک پہنچ گئی جبکہ 295افراد زخمی ہو چکے ہیں، پی ڈی ایم اے خیبر پختونخوا میں حالیہ بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث جانی و مالی نقصانات کی ابتدائی رپورٹ جاری کر دی ہے۔
پی ڈی ایم اے خیبر پختونخوا میں حالیہ بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث جانی و مالی نقصانات کی ابتدائی رپورٹ جاری کر دی ہے، جس کے باعث گزشتہ دو روز کے دوران مختلف حادثات میں اموات کی تعداد380 تک پہنچ گئیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سب سے زیادہ ضلع بونیر میں 150افراد لاپتہ ہیں جبکہ جاں بحق افراد میں 279 مرد،15 خواتین اور 13 بچے شامل ہیں، مجموعی طور پر 74 گھروں کو نقصان پہنچا،11 گھر مکمل منہدم ہو گئے جبکہ 63 مکانات کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔
ضلع بونیر کے پیر بابا میں سکول کے 400 سے زائد طلبہ کو بحفاظت ریسکیو کر لیا گیا، سوات مینگورہ میں سیلاب سے متعدد مکانات زمین بوس ہو گئے، کئی کئی فٹ تک ملبہ موجود ہے، بڑے بڑے پتھروں کے ڈھیر پڑے ہوئے ہیں جبکہ مکین بے گھر ہو چکے ہیں۔
خیبر پختونخوا میں حالیہ تباہ کن بارشوں اور سیلاب کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر انسانی جانوں اور املاک کے ضیاع کے ساتھ ساتھ صحت سہولیات کو نقصان پہنچا ہے، صوبے کے متاثرہ علاقوں میں اب تک 289 میڈیکل کیمپس قائم کئے گئے ہیں، جہاں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 5ہزار627 مریضوں کا معائنہ کیاگیا۔
ان مریضوں میں زیادہ تر بچے،خواتین اورضعیف العمر افراد شامل ہیں ، سیلاب کے باعث صحت کے ادارے بھی بری طرح متاثر ہوئے ہیں، 21ہسپتالوں کو جزوی طور پر نقصان پہنچا جبکہ ایک ہسپتال مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے، جس سے طبی امداد فراہم کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
اب تک صحت کی سہولیات میں 354 متعدی امراض کے کیس رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں سب سے زیادہ کیسز سوات میں رپورٹ ہوئے، جن میں سانس کی بیماری کے 194 کیس، اسہال کے140 کیس، خارش کے 8 کیس اور خون آلود اسہال یا پیچش کے بھی 8 کیس رپورٹ شامل ہیں، تاہم اب تک متعدی بیماریوں کے باعث کوئی موت رپورٹ نہیں ہوئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق باجوڑمیں 26 مریض رپورٹ ہوئے جن میں زیادہ تر سانس کی بیماری اور اسہال کے مریض تھے سوات سب سے زیادہ متاثرہ ضلع ہے جہاں صحت عامہ کے 354 کیس رپورٹ ہوئے ہیں ۔ اس دوران سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں متعدی بیماریاں پھوٹ پڑیں۔