بیوروچیف نوائے وقت ، ڈان ٹی وی
پشاور:20کلو آٹے کاتھیلا 1300سے 2300پر جاپہنچا۔ بجلی، گیس، پٹرول دریاؤں کا پانی ہمارے صوبے کا۔ ہم نے کبھی بھی پنجاب کے لیے نہیں روکا تو کیوں خیبر پختون خواہ آنے والی گندم اور آٹے پر چیف سیکرٹری پنجاب اختر زمان کی ایما پر پابندی لگائی گئی۔ بلوچستان سندھ میں بھی آٹے کا بحران پنجاب کی حکومت مریم نواز اور چیف سیکرٹری پنجاب کے احکامات پر ہو رہا ہے۔ پاکستان کے آئین کے رو سے صوبے ایک دوسرے کی طرف جانے والی کسی خرنی اشیاء کو نہیں روک سکتے۔ چیف سیکرٹری آئین پاکستان کے خلاف کام کر رہے ہیں اور گندم اٹا مافیا کی سہولت کاری کر کے مارکیٹ میں عام ادمی کے لیے گندم مہنگی کر رہے ہیں۔ جس سے غریب پر بوجھ بڑھ رہا ہے ۔پشاور میں سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر فضل مقیم قاضی اور چیئرمین ال فلور ملز ایسوسییشن نعیم بٹنے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر سے مطالبہ ہے کہ اختر زمان کو عہدے سے ہٹا کر اس کے خلاف انکوائری کی جائے جو صوبوں میں نفرت بڑھانے اور آئین کے خلاف اپنی کارکردگی دکھا رہے ہیں یہ وہی چیف سیکرٹری ہے جس نے پہلے گندم باہر سے امپورٹ کروائی اور پاکستان میں پہلے سے موجود گندم کے ریٹس گرائے مقامی مارکیٹ کو سبوتاژ اور مقامی کاشتکار پورے سال کی محنت کو ضائع کیا۔