برطانیہ میں طلبا و طالبات کو دوران تعلیم ان کی تعلیمی ، مالی ، رہائش اور روزمرہ کے اخراجات پورا کرنے کے لیے قرضے دیے جاتے ہیں
اپنی تعلیم مکمل ، ملازمت شروع کرنے کے بعد قرض کی واپسی کرنا ہوتی ہے،جب تک ملازمت نہ ملے یا اپنا بزنس شروع نہ کیا ہو ،قرض واپس نہیں کرنا ہوتا
ایجوکیشن رپورٹرنوائے وقت، ڈان ٹی وی، اوکے ٹی وی رپورٹ
لندن:برطانیہ میں 2.6 ملین سے زائد افراد کے ذمے ایسے واجب الادا تعلیمی قرضے ہیں، جن کی فی کس مالیت 50 ہزار پاؤنڈ سے زیادہ بنتی ہے۔ طلبہ کی طرف سے تعلیم کی خاطر لیے گئے ان قرضوں کی کُل مالیت تقریباﹰ 133 بلین پاؤنڈ بنتی ہے۔
برطانیہ میں طلبہ کو دیے جانے والے تعلیمی قرضوں کے معاملات اسٹوڈنٹ لونز کمپنی (SLC) دیکھتی ہے
لندن: ماضی کے ایسے طلبا و طالبات کی تعداد بھی لاکھوں میں بنتی ہے، جنہوں نے اپنی تعلیم مکمل کرنے کے لیے دستیاب مالی سہولیات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بڑے قرضے تو لیے تھے، تاہم اب ان کے ذمے فی کس رقوم کی مالیت 50 ہزار پاؤنڈ سے کم رہ گئی ہے۔
دوسری طرف پورے برطانیہ میں 2.6 ملین سے زائد افراد ایسے بھی ہیں، جنہوں نے اپنے تعلیمی کیریئر کے دوران قرضے لیے اور ان کے ذمے رقوم کی فی کس مالیت 50 ہزار پاؤنڈ یا 67,560 امریکی ڈالر سے زیادہ بنتی ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ ان 26 لاکھ سے زیادہ افراد کو جو قرضے واپس کرنا ہیں، ان کی مجموعی مالیت 133 بلین پاؤنڈ بنتی ہے۔
برطانیہ میں طلبہ کو دیے جانے والے تعلیمی قرضوں کے معاملات اسٹوڈنٹ لونز کمپنی (SLC) دیکھتی ہے۔ اس کمپنی کی طرف سے ابھی حال ہی میں فریڈم آف انفارمیشن کے قانون کے تحت مطالبہ کیے جانے پر اس سال 10 اگست تک کے جو اعداد و شمار مہیا کیے گئے، ان کے مطابق برطانیہ میں موجودہ یا سابقہ طلبہ میں سے جس ایک فرد کے ذمے سب سے زیادہ واجب الادا انفرادی قرضہ ہے، اس کی مالیت تقریباﹰ تین لاکھ پاؤنڈ بنتی ہے۔
ایس ایل سی کے مطابق اس مقروض فرد کو، جس کی صنف ظاہر نہیں کی گئی، تعلیمی قرض کے طور پر 299,645 پاؤنڈ واپس کرنا ہیں، جو ایک ریکارڈ ہے۔
اسی طرح کمپنی کی طرف سے یہ بھی بتایا گیا کہ جن افراد کو 50 ہزار پاؤنڈ سے زائد کے انفرادی تعلیمی قرضے لوٹانا ہیں، ان کی کُل تعداد 2,652,997 بنتی ہے۔
اسٹوڈنٹ لونز کمپنی کی طرف سے بتایا گیا کہ برطانیہ میں طلبا و طالبات کو دوران تعلیم ان کی مالی ضروریات پورا کرنے کی خاطر جو قرضے دیے جاتے ہیں، وہ اپنی مالیت میں کافی متنوع ہوتے ہیں اور مختلف سطحوں کی تعلیم کے لیے دیے جاتے ہیں۔
ایسے قرض لینے والے طلبہ اعلیٰ تعلیم، پوسٹ گریجویٹ اسٹڈیز اور پی ایچ ڈی کی سطح کی تحقیق کے دوران بھی ایسا کر سکتے ہیں۔ ایسے قرضے پڑھائی کے اخراجات پورا کرنے کے علاوہ رہائش اور روزمرہ کے اخراجات پورا کرنے کے لیے بھی لیے جاتے ہیں۔
ایس ایل سی کے مطابق انگلینڈ میں ایسے قرضے لینے والے طلبا و طالبات جب اپنی تعلیم مکمل کرنے اور کوئی نہ کوئی ملازمت شروع کرنے کے بعد قرض کی واپسی کے مرحلے میں داخل ہوتے ہیں، تو ان میں سے اوسطاﹰ ہر کسی پر 53,010 پاؤنڈ قرض ہوتا ہے۔
یہ بات بھی اہم ہے کہ پورے برطانیہ میں اس سال 10 اگست تک 2,478,047 افراد ایسے تھے، جو اپنے ذمے واجب الادا تعلیمی قرضے پورے واپس کر چکے تھے۔