Nawa-i-waqt Special:والد کو ’ڈیتھ سیل‘ میں رکھا گیا ہے، تشدد اور غیر انسانی سلوک کیا جاتا ہے،عمران خان کے بیٹوں کی اقوام متحدہ میں اپیل

ان کے باپ کو اپنے ڈاکٹر سے ملنے کی اجازت نہیں اور وکیلوں تک رسائی بھی انتہائی محدود ہے، قاسم خان

عمران خان کی حراست من مانا اور غیر قانونی قرار، بین الاقوامی قانون کے تحت فوری رہائی،معاوضے کا مطالبہ،اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کا ورکنگ گروپ

سٹاف رپورٹرنوائے وقت ، ڈان ٹی وی ، اوکے ٹی وی رپورٹ

لندن:سابق پاکستانی وزیراعظم عمران خان کے بیٹے قاسم خان نے کہا ہے کہ ان کے والد کو اڈیالہ جیل میں قید تنہائی میں رکھا گیا ہے، جہاں حالت اتنی خراب ہے کہ لگتا ہے کہ وہ ’ڈیتھ سیل‘ میں ہیں، جہاں سزائے موت پانے والے قیدی رکھے جاتے ہیں۔

26 سالہ قاسم خان نےمزید کہا کہ ان کے والد کو اپنے ڈاکٹر سے ملنے کی اجازت نہیں دی گئی اور وکیلوں تک رسائی بھی محدود ہے۔

انہوں نے بتایا: ’میرے والد کو جس حالت میں رکھا گیا ہے وہ انتہائی سخت ہے۔ وہ بنیادی طور پر ایک ڈیتھ سیل میں بند ہیں، جہاں صفائی کا کوئی معیار نہیں اور مناسب سہولتیں بھی نہیں ہیں۔ تقریباً ایک سال سے انہیں اپنے ذاتی ڈاکٹر سے ملنے کی اجازت نہیں ملی۔‘

قاسم خان کا کہنا تھا کہ ’ایسا وقت بھی آیا کہ جب ہم، ان کے بچے، چھ ماہ تک ان سے ایک بار بھی بات نہ کر سکے۔ یہ سب کچھ انہیں جسمانی اذیت دینے اور ذہنی طور پر توڑنے کے لیے کیا جا رہا ہے، لیکن ان سب باتوں کے باوجود وہ ڈٹے ہوئے ہیں، اپنے ایمان اور پاکستان کے عوام، جمہوریت اور قانون کی حکمرانی پر یقین کو تھامے ہوئے۔

’یہ دیکھنا انتہائی مشکل ہے کہ ہمارے والد کے ساتھ اس طرح سلوک کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اپنے ملک کے لیے سب کچھ قربان کر دیا۔ اب انہیں ڈیتھ سیل میں بند دیکھنا انتہائی تکلیف دہ ہے۔‘

عمران خان کی بیوی بشریٰ بی بی کی بہن مریم ریاض وٹو نے کہا کہ عمران خان اور ان کی اہلیہ کی نمائندگی کرتے ہوئے انہوں نے اور قاسم اور سلیمان نے جوڑے پر تشدد کے معاملے پر اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے کے پاس دو نئی اپیلیں دائر کی ہیں۔

ان اپیلوں میں حراست کے دوران تشدد اور غیر انسانی سلوک کے الزامات لگائے گئے ہیں۔

قبل ازیں اقوام متحدہ کے ایک انسانی حقوق کے ورکنگ گروپ نے عمران خان کی حراست کو من مانا اور غیر قانونی قرار دیا اور بین الاقوامی قانون کے تحت ان کی فوری رہائی اور معاوضے کا مطالبہ کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *