گزشتہ دنوں سے ڈنمارک ہائبرڈ حملوں کا شکار رہا ہے، جو غیر روایتی جنگ کو ظاہر کرتا ہے،ڈنمارک وزیراعظم میٹے فریڈریکسن
نوائے وقت نیوز ڈیسک ، ڈان ٹی وی رپورٹ
ڈنمارک:سب سے بڑے فوجی اڈے کے اوپر رات کے وقت نامعلوم ڈرونز دیکھے گئے، یہ واقعات اُن مشاہدات کی تازہ ترین کڑی ہے، جنہیں ڈنمارک کے حکام ’ہائبرڈ حملہ‘ قرار دے چکے ہیں۔
برطانوی میڈیا کے مطابق ان پراسرار ڈرون مشاہدات کے باعث پورے اسکینڈے نیوین ملک میں کئی ہوائی اڈے بند کر دیے گئے ہیں، یہ سلسلہ پیر سے جاری ہے جب پہلی بار ڈرون نظر آئے تھے۔
ڈیوٹی آفیسر سائمن اسکیلسیئر نے میڈیا کو بتایا کہ میں اس بات کی تصدیق کر سکتا ہوں کہ ہمارے پاس گزشتہ شام 8:15 (پاکستانی وقت رات 11:15) کے قریب ایک واقعہ پیش آیا تھا، جو کچھ گھنٹوں تک جاری رہا، ایک سے 2 ڈرون اڈے کے باہر اور اوپر دیکھے گئے۔
انہوں نے کہا کہ پولیس یہ نہیں بتا سکتی کہ ڈرون کہاں سے آئے تھے، اور ہم نے انہیں گِرایا نہیں، پولیس تفتیش میں فوج کے ساتھ تعاون کر رہی ہے۔
کاروپ فوجی اڈہ اپنی رن ویز مڈجائلینڈ کے سول ایئرپورٹ کے ساتھ استعمال کرتا ہے، جو عارضی طور پر بند کیا گیا، تاہم کوئی پرواز متاثر نہیں ہوئی کیوں کہ اس وقت کوئی تجارتی پرواز طے نہیں تھی۔
ڈنمارک کی وزیراعظم میٹے فریڈریکسن نے کہا کہ گزشتہ دنوں میں ڈنمارک ہائبرڈ حملوں کا شکار رہا ہے، جو غیر روایتی جنگ کو ظاہر کرتا ہے۔