عدلیہ جرنیلوں کے تلوے چاٹتی ہے،موٹی کھوپڑی کے بند کمروں میں کیے فیصلوں کو پوری قوم بھگت رہی ہے،عمران ریاض

ریجیم چینج آپریشن نے پاکستان کو برباد کردیا، آج آپ بلوچستان سے گزر نہیں سکتے،نو گو ایریا بنا دیا ہے،تقریب سے صابر شاکر،وسیم صدیقی کا خطاب

ارشد شریف شہید کی برسی میں عوام، صحافیوں، سیاسی و سماجی شخصیات اشتیاق ٹونی اور پی ٹی آئی کی سابق رکن پارلیمنٹ عابدہ راجہ کی بھرپور شرکت

پی ٹی آئی کا مینڈیٹ چرایا گیا،جیتنے والوں کو زبردستی ہروایا گیا،سابق رکن پارلیمنٹ عابدہ راجہ کی نوائے وقت ،ڈیلی ڈان اور ڈان ٹی وی سے گفتگو

ڈاکٹر اختر گلفام ایڈیٹر انچیف نوائے وقت ،ڈائریکٹرنیوز ڈان ٹی وی

فوٹو:راجہ طارق محمود خان

لندن: پاکستان کے نامور صحافی ارشد شریف کی یاد میں ایک پروگرام لندن کے مقامی ہال میں منعقد ہو۔جس کے مہمان خصوصی پاکستان کے سب سے دبنگ صحافی عمران ریاض اور صابر شاکر تھے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عمران ریاض نے کہا کہ

ارشد شریف کوانصاف ملنے کا کتنا امکان ہے؟ امکان ہے بھی یا نہیں ہے؟ یہ ہوا کیا؟ میں مختصر آپ کو بتاتا ہوں۔ سب کچھ نارمل چل رہا تھا، جیسے سب چل رہا تھا ویسے ہی ہم چل رہے تھے، سب ایک ساتھ کام کر رہے تھے۔ صابر بھائی، شہید ارشد شریف، میں، سمیع ابراہیم، بہت سارے اور دوست ہمارے۔ پاکستان میں ایک ٹریک ہے جرنلزم کا، ہم سارے اس پہ کام کر رہے تھے۔ اپنی اپنی غلط فہمیوں کے ساتھ، مجھے بلاوجہ یہ کہنے میں کوئی شرم نہیں ہے کہ میں نے غلطیاں کی ہیں۔ جیسے سب کرتے ہیں، لیکن مجھے یہ کہنے میں فخر ہے کہ میں نے اپنی غلطیوں سے سیکھا ہے۔ میں نے سیکھا کہ میرے ملک کا مسئلہ کیا ہے۔ غلطی ہم سے یہ ہوئی، مجھ سے، صابر شاگرد سے، سب سے پہلے شہید ارشد شریف سے، اور ریجیم چینج آپریشن کے بعد متاثر ہونے والے باقی تمام ان کرداروں سے جو صحافت میں ہیں اور انہوں نے انکار کیا ہے۔ ہمیں کہا گیا کہ یہ ٹریک اس پہ چلو، ہم نے انکار کیا۔ کیونکہ نظر آ رہا تھا کہ اس ٹریک پہ تباہی ہوگی، بربادی ہے پاکستان کی۔ کیا انہوں نے برباد پاکستان کو؟ دیکھو، واپس مڑ کے پاکستان کی حالت کیا کرتی ہے؟ آج آپ بلوچستان سے گزر نہیں سکتے،نو گو ایریا بنا دیا ہے

ہمارے بھائی قتل ہوتے ہیں، خون سے لکھی جا رہی ہے ایک نئی داستان، اور اس کی کہانی دوبارہ شروع ہوتی ہے رجیم چینج آپریشن سے۔ کیونکہ چند لوگوں نے فیصلہ کیا کہ وہ ملک کی تقدیر اپنے ہاتھ سے لکھیں گے، اور اپنی موٹی کھوپڑی سے فیصلہ کریں گے۔ ہم کریں گے فیصلہ کیوں؟ بند کمروں میں، آج پوری قوم بھگت رہی ہے ان فیصلوں کو۔ انکار کیا تھا ہم نے، اس انکار کی ہم نے سزا کاٹی ہے۔ اس آدمی نے انکار کیا تھا، لیکن اسے بڑا بیلیف تھا سسٹم میں، عدلیہ میں، نظام میں، قانون میں، آئین میں۔ مجھے ایک دن فون آیا ارشد شریف کو، مجھے کہتے ہیں کہ ہم سینٹ میں جائیں گے، اور جا کر آواز اٹھائیں گے۔ میں نے کہا بھائی کون سنے گا؟ ان کی یہ اوقات ہی نہیں ہے۔ یہ تو جرنیلوں کے تلوے چاٹتے ہیں، یہ سنیں گے؟ تو انہوں نے کہا کہ ہمیں ہر چیز ریکارڈ میں رکھنی ہے عمران۔ ہر چیز کو بلیک اینڈ وائٹ میں۔

مجھے اچھی طرح یاد ہے میں نے انہیں کہا ایک دن ہم قومی اسمبلی کے وہاں نیچے بیسمنٹ میں جہاں سے گاڑیاں نکلتی ہیں وہاں سے ہم باہر جا رہے تھے اس دن ثابت شاکر بھائی بھی ہمارے ساتھ موجود تھے سینٹ کی ایک ہیئرنگ میں تو میں نے کہا ارشد بھائی آپ کے پاس سیکیورٹی کدھر ہے تو بولا میں تو سیکیورٹی نہیں رکھتا میں نے کہا یہ بدتمیزی کریں گے یہ آپ کے اوپر حملہ کریں گے اس آدمی کو تم پہ اتنا اعتبار تھا بے شرمو اس نے مجھے کہا یہ مجھے ماریں گے نہیں عمران یہ اس کو بھروسہ تھا اور بے شرمو اپنے گریبان میں جھانکو وہ سمجھتا تھا تم اسے نہیں مارو گے تم نے اس کے لیے زندگی تنگ کر دی.

بعد ازاں صابر شاکر نے خطاب کیا۔

پروگرام میں اپنی بہین حبیبہ کے شامل پی ٹی آئی کی سابق رکن پارلیمنٹ عابدہ راجہ نے برطانیہ سے سب سے زیادہ شائع ہونے والے اور نیوز پیپر آف دی ایئر ایوارڈ یافتہ اخبارنوائے وقت لندن ،انگلش اخبار ڈیلی ڈان اورڈان ٹی وی سے گفتگو میں کہا کہ پی ٹی آئی کا مینڈیٹ چرایا گیا،جیتنے والوں کو زبردستی ہروایا گیا۔ اس سے بڑھ کر اور ملک دشمنی کیا ہوگی۔ان کا مکمل انٹرویو جلد ہی پڑھ اور دیکھ سکیں گے۔

پروگرام میں اشتیاق ٹونی ، شعیب عالم ،میاں سعید،مرزا اخلاق احمد، محمد ساجد خان ،جمیل شیخ،وسیم رحمان، سینئربرطانوی صحافی عبدالمجید اور دیگر نے شرکت کی۔

پروگرام کا آغاز قاضی حسنین محی الدین کی تلاوت اور نعتِ رسولِ مقبول سے ہوا۔ اس موقع پر ٹی وی اینکر زینب راجپوت، عامر متین سلیمان حیدر ، شہید ارشد شریف کی بیوہ جاوریہ اور صدیق جان کے پیغامات پڑھ کر سنائے گئے۔

پروگرام کے آرگنائزرنقیب راجہ نے کہا کہ
ارشد شریف شہید کی برسی کے موقع پر عوام، صحافیوں، سیاسی و سماجی شخصیات کی بھرپور شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ سچائی اور اصول کبھی مر نہیں سکتے۔
میں سب سے پہلے اپنے ربِ کریم کا شکر ادا کرتا ہوں، پھر اپنے مہمانانِ خصوصی عمران ریاض اور صابر شاکر کا خصوصی شکریہ ادا کرتا ہوں جن کی موجودگی نے اس موقع کو مزید بامعنی بنا دیا۔

میں لندن کے تمام صحافیوں، پاکستان کی سیاسی جماعتوں، وکلاء، کاروباری طبقے اور ہر اُس شخص کا دل سے شکر گزار ہوں جنہوں نے خوف کے بت توڑ کر ارشد شریف شہید کی یاد کو زندہ رکھا اور حق کے ساتھ کھڑے ہوئے۔
یہ اجتماع صرف ایک یادگار تقریب نہیں، بلکہ آزادیٔ صحافت کے عزم کی تجدید بھی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *