پرویز انور نوائے وقت ، ڈان ٹی وی رپورٹ
واشنگٹن:امریکی کانگریس مین برینڈن گِل کو اس وقت شدید عوامی ردعمل کا سامنا کرنا پڑا جب انہوں نے برطانوی نژاد امریکی صحافی مہدی حسن کو ’برطانیہ واپس جانے‘ کا مشورہ دیا۔
اس تنازع کا آغاز اس وقت ہوا جب مہدی حسن نے امریکہ میں اذان کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اگر چرچ کی گھنٹیاں بج سکتی ہیں تو اذان بھی دی جا سکتی ہے۔
مہدی حسن زیٹیو (Zeteo) کے ایڈیٹر اِن چیف اور سی ای او ہیں۔ انہوں نے امریکی مسیحیوں سے مخاطب ہو کر کہا کہ ’اگر آپ اپنے چرچ کی گھنٹی بجا سکتے ہیں تو ہم اذان بھی دے سکتے ہیں۔ ہم بھی اتنے ہی امریکی ہیں جتنے آپ اور ہم کسی کی بکواس برداشت نہیں کرتے۔‘
اس پر ردعمل دیتے ہوئے برینڈن گِل نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر طنزیہ انداز میں لکھا ’ہم یہاں بڑی تعداد میں آ کر امریکی عوامی زندگی کے منظرنامے کو بنیادی طور پر بدل سکتے ہیں۔‘
مہدی حسن نے جواباً برینڈن گِل کے خاندانی پس منظر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ’آپ کی اہلیہ ایک انڈین نژاد امریکی ہیں، ایک انڈین تارک وطن کی بیٹی۔‘
اس پر برینڈن گِل نے جواب دیا ’میری بیوی ایک مسیحی ہے اور وہ بھی آپ کی جابرانہ مسلم اذان سننا نہیں چاہتی۔ اگر آپ کو مسلم ملک میں رہنا ہے تو واپس برطانیہ چلے جائیں۔‘