بی بی سی کو حماس اسرائیل کی جنگ کی کوریج سمیت اپنی رپورٹنگ میں غیرجانبداری کو برقرار نہ رکھنے کے الزامات کا سامنا
ڈاکٹر اختر گلفام ایڈیٹر انچیف نوائے وقت،ڈائریکٹرنیوز ڈان ٹی وی
لندن: ٹم ڈیوی نے برطانوی نشریاتی ادارے پر جانبداری کے متعدد الزامات لگنے کے بعد سنسنی خیز طور پر بطور بی بی سی کے ڈائریکٹر جنرل استعفیٰ دے دیا ہے۔
ایک حیران کن اعلان میں ٹم ڈیوی نے کہا کہ انہیں اپنی پانچ سالہ مدت ملازمت کے دوران ادارے میں ہونے والی ’کچھ غلطیوں کے لیے حتمی ذمہ داری‘ قبول کرنی پڑے گی۔
ان کے بعد بی بی سی نیوز کی چیف ایگزیکٹو ڈیبورا ٹرنس نے بھی اپنا استعفیٰ پیش کر دیا ہے۔ یہ پیش رفت اس مشکل ہفتے کے بعد سامنے آئی ہے جس میں برطانوی نشریاتی ادارے پر الزام لگا تھا کہ اس نے ’پینوراما‘ (بی بی سی کا ڈاکومنٹری فلیگ شپ پروگرام) کے ایک ایڈیشن میں ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک تقریر کو منتخب طریقے سے ایڈٹ کیا۔
یہ تقریر اسی دن کی تھی جب امریکی کانگریس پر حملہ ہوا تھا۔
ٹم ڈیوی نے کہا کہ ان کا رخصتی کا عمل فوری طور پر نافذ العمل نہیں ہوگا اور وہ ’اگلے چند مہینوں میں ایک منظم عبوری عمل‘ کو یقینی بنانے کے لیے نظام الاوقات پر کام کر رہے ہیں۔ دوسری جانب ٹرنس نے اپنے بیان میں کہا کہ پینوراما ایڈیٹ کے بارے میں تنازع اس مقام تک پہنچ چکا ہے کہ یہ بی بی سی، ایک ایسا ادارہ جس سے وہ محبت کرتی ہیں، کو نقصان پہنچا رہا ہے۔‘
ادارے کے ان اعلیٰ پروفائل کے دو افراد کے مستعفی ہونے کا اعلان ایسے وقت پر ہوا ہے جب بی بی سی کو مالیاتی چیلنجز کا سامنا ہے اور اسے نیٹ فلکس جیسے آن لائن سٹریمنگ پلیٹ فارمز کے ساتھ ناظرین کی توجہ جیتنے میں سخت مقابلے کا سامنا ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے ڈائریکٹر جنرل ٹم ڈیوی اور چیف ایگزیکٹیو نیوز ڈیبوراہ ٹرنیس نے کارپوریشن پر تعصب برتنے اور تنقید کے بعد استعفے دے دیے ہیں، جس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریر کو ایڈٹ کیے جانے کا معاملہ بھی شامل ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق بی بی سی کو حماس اسرائیل کی جنگ کی کوریج سمیت اپنی رپورٹنگ میں غیرجانبداری کو برقرار نہ رکھنے کے الزامات کا سامنا ہے۔
حالیہ تنازع کے حوالے سے ڈیلی ٹیلی گراف نے بی بی سی کے ایک سابق مشیر کی جانب سے تیارکرہ ایک انٹرنل ڈاکیومنٹ میں غلطیوں کی نشاندہی کی تھی اور اس میں صدر ٹرمپ کی چھ جنوری 2021 کو کی گئی تقریر بھی شامل تھی، جس میں ترمیم کی گئی تھی۔
دستاویز میں بتایا گیا تھا کہ فلیگ شپ پینوراما نے صدر ٹرمپ کی تقریر کے دو حصوں کو ایک ساتھ ایڈٹ کیا تھا جس میں وہ کیپٹل ہل میں ہونے والے فسادات کی حوصلہ افزائی کرتے دکھائی دیے۔
ٹم ڈیوی نے اپنے بیان میں کہا کہ ’یہ مکمل طور پر میرا ذاتی فیصلہ ہے اور میں اپنی پوری مدت بشمول اور حالیہ دنوں کے دوران بھی، چیئر اور بورڈ کی غیرمتزلزل اور متفقہ حمایت کے لیے مشکور ہوں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میں کئی سال کے ایک مشکل وقت کے دوران اپنے ذاتی اور پیشہ ورانہ تقاضوں کے حوالے سے خیالات کا اظہار کرتا رہا ہوں اس حقیقت کے ساتھ کہ مجھے میرے بعد آنے والے کو وقت دینا چاہیے تاکہ ان چارٹر مںصوبوں کی تشکیل میں مدد مل سکے جو انہوں نے فراہم کرنا ہیں۔‘
بی بی سی کی ڈاکیومنٹری میں صدر ٹرمپ کو اپنے حامیوں کو یہ کہتے ہوئے دکھایا گیا تھا کہ ’ہم کیپٹل تک جائیں گے اور اس لڑائی کے لیے جان لڑا دیں۔‘
یہ ایک ایسا تبصرہ تھا جو انہوں نے ایک اور موقع پر کیا تھا۔
جمعے کو شائع ہونے والے انٹرویو میں صدر ٹرمپ کی سیکریٹری کیرولائن لیوٹ نے بی بی سی خبر کو ’100 فیصد فیک‘ ٹھہراتے دیتے ہوئے اسے ’پروپیگنڈہ مشین‘ قرار دیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق ٹم ڈیوی اگلے چند ماہ متبادل کے ملنے تک برقرار رہیں گے۔
اس معاملے سے واقفیت رکھنے والے ایک شخص کا کہنا ہے کہ ٹم ڈیوی کے اس اقدام نے بی بی سی کے بورڈ کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے۔