عہدہ نہیں، ادارہ اہم:صحافیوں کی فلاح و بہبود کے لیے تمام مسائل کو بروئے کار لانے کی یقین دھانی،ساہیوال پریس کلب کے صدارتی امیدوار عمر منظورکی اہم پریس کانفرنس

رانا وحید بیوروچیف نوائے وقت

ساہیوال: صحافیوں کی فلاح و بہبود کے لیے تمام مسائل کو بروئے کار لایا جائے گا۔ انشاءاللہ کامیابی کے بعد سب کو ساتھ لے کر چلوں گا۔ پریس کلب کے سارے ممبران میرے بھائی ہے یہ بات
ساہیوال پریس کلب کے صدارتی امیدوار عمر منظور نے ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جمہوری روایات، برداشت اور باہمی احترام کی اعلیٰ مثال قائم کی۔ اس موقع پر پرویز کھرل، مرزا خالد ندیم، چوہدری نجیب، ولسن رضااور ناصر شاہ بھی موجود تھے ۔ انہوں نے اپنی گفتگو کے دوران مخالفین کو بار بار “بھائی” کہہ کر مخاطب کیا اور اس بات پر زور دیا کہ پریس کلب کی طاقت اس کا اتحاد اور جمہوری تسلسل ہے، نہ کہ باہمی اختلافات۔
عمر منظور نے واضح کیا کہ مخالفین کی جانب سے اٹھائے گئے تمام اعتراضات کو وہ سنجیدگی سے تسلیم کرتے ہیں اور ان کے حل کے لیے ہر ممکن تعاون کو تیار ہیں۔ انہوں نے نہایت عاجزی کے ساتھ کہا کہ ہم آپ کی منت کرتے ہیں کہ اس پریس کلب کے جمہوری نظام اور الیکشن کے عمل کو کسی صورت خراب نہ ہونے دیں۔ ہم ہر قیمت پر آپ کے ساتھ کھڑے ہیں۔
انہوں نے ایک واضح اور جمہوری مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اگر اپوزیشن کے امیدوار انتخابات میں کامیاب ہوتے ہیں تو وہ سب سے پہلے انہیں مبارک باد دینے والے ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ عہدہ نہیں، ادارہ اہم ہے، اور ادارے کی مضبوطی جمہوری عمل کے تسلسل سے ہی ممکن ہے۔
پریس کانفرنس میں عمر منظور نے یہ بھی وضاحت کی کہ پریس کلب کے چیئرمین حافظ وحید کی جانب سے اگر کسی موقع پر سخت یا نامناسب الفاظ استعمال ہوئے تو انہیں واپس لے لیا گیا ہے، جس کا باضابطہ نوٹس بورڈ پر بھی اندراج کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ الیکشن میں پریس کلب کے 104 باقاعدہ ممبران حصہ لیں گے، تاکہ کسی بھی قسم کے ابہام یا شکوک و شبہات کی گنجائش باقی نہ رہے۔
صدارتی امیدوار عمر منظور نے تمام صحافی برادری کو یقین دلایا کہ اگر الیکشن کے حوالے سے کسی کو بھی کوئی اعتراض، سوال یا ابہام ہو تو وہ کھلے دل کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ “ہم چاہتے ہیں کہ یہ الیکشن شفاف، منصفانہ اور سب کی رضامندی سے ہوں، کیونکہ یہی ایک مضبوط اور باوقار پریس کلب کی بنیاد ہے۔اس موقع پر صحافیوں کی فلاح و بہبود کے لیے انہوں نے اپنا منشور پیش کیا صحافی کالونی صحافیوں کے انشورنس (insurance )اور صحافیوں کے بچوں اور بچیوں کی تعلیم صحت اور شادی کے لیے خصوصی فنڈ قائم کیا جائے گا اور پریس کلب میں مسجد کی تعمیر کو مکمل کیا جائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *