ملک سرد موسم، شدید برفباری اور طوفانی ہواؤں کا سامنا کر رہا ہے جسے ملک کی سب سے شدید برفباریوں میں سے ایک قرار
ڈاکٹر اختر گلفام ایڈیٹر انچیف نوائے وقت، ڈائریکٹرنیوز، ڈان ٹی وی
لندن/ ایڈنبرا:برطانیہ اس وقت شدید برفانی طوفان گوریٹی کی لپیٹ میں ہے جس کے باعث مختلف علاقوں میں معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہوچکے ہیں۔ ویسٹ مڈلینڈز میں گزشتہ دہائی کی سب سے زیادہ برفباری ریکارڈ کی گئی ہے۔
تیز رفتار ہواؤں نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے، کئی مقامات پر ہواؤں کی رفتار سو میل فی گھنٹہ تک جا پہنچی۔ طوفان کے نتیجے میں ہزاروں صارفین بجلی سے محروم ہوگئے ہیں۔
برطانیہ اس وقت ایک طاقتور سرد موسم، شدید برفباری اور طوفانی ہواؤں کا سامنا کر رہا ہے جسے ملک کی سب سے شدید برفباریوں میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے خاص طور پر پچھلے دس سالوں میں۔
یورپ اور خصوصی طور پر برطانیہ کو طوفان گوریٹی نے نشانہ بنایا ہوا ہے جو اپنے ساتھ تیز ہوائیں تقریباً 99–100 میل فی گھنٹہ اور شدید برفباری لایا ہے۔ کچھ علاقوں میں 30 سینٹی میٹر تک برف پڑنے کی پیشگوئی ہے۔
ویسٹ مڈلینڈز سمیت متعدد علاقوں میں حالیہ برفباری دہائی کی شدید ترین مانی جا رہی ہے، جس سے روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ ہزاروں گھرانوں کی بجلی منقطع ہو گئی ہے اور بجلی کی بندش عام ہوگئی ہے، خصوصاً ویسٹ مڈلینڈز اور جنوبی علاقوں میں۔
اسکول بند کیے جا چکے ہیں، ریلوے اور بس سروسز معطل یا متاثر ہو رہی ہیں جبکہ سڑکوں پر ٹریفک بھی شدید متاثر ہے۔ ہواؤں اور برف کی وجہ سے پروازوں میں تاخیر اور منسوخیاں بھی ہو رہی ہیں اور ہنگامی الرٹس بعض علاقوں میں جاری کیے گئے ہیں۔
طوفان گوریٹی نے برطانیہ کے میٹ آفس کی جانب سے ریڈ، ایمبر اور یلو وارننگز جاری کروائیں ہیں جو خطرناک موسم اور ممکنہ نقصان کی نشاندہی کرتی ہیں۔
موسمی ماہرین نے کہا ہے کہ یہ سرد لہر اور طوفان ایک موسمی بم کے طور پر شروع ہوا ہے جس کا مطلب ہے دباؤ میں اچانک شدید کمی اور موسمی تغیر۔
ویسٹ مڈلینڈز ریجن کے لیے ایمبر الرٹ جاری کیا گیا ہے جبکہ برمنگھم ایئرپورٹ کو رن وے بند ہونے کے باعث پروازیں معطل کرنا پڑیں۔ کارنوال میں تیز ہواؤں کے سبب درخت گرنے کے واقعات پیش آئے ہیں۔
حکام نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔ لندن میں بھی خراب موسم کے باعث شہری گھروں تک محدود ہوکر رہ گئے ہیں۔