ان سنگین دعووں کی تصدیق یا تردید کے لیے پنجاب کے چیف سیکرٹری ، ایڈیشنل چیف سیکرٹری اور وزیر اطلاعات نے ڈان کی کالز اور پیغامات کا کوئی جواب نہیں دیا
کیا ایک ایسی قوم جہاں 45 فیصد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے ہیں،اربوں روپے مالیت کے طیارے کی عیش و آرام کی متحمل ہو سکتی ہے؟
ڈاکٹر اختر گلفام ، ایڈیٹر انچیف نوائے وقت ، ڈائریکٹر نیوز ڈان ٹی وی
لاہور: پنجاب حکومت کی جانب سے ’وی آئی پی ٹرانسپورٹ‘ کے لیے کروڑوں ڈالرز مالیت کا لگژری طیارہ خریدنے کے دعووں نے سیاسی و عوامی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے، تاہم اس حساس معاملے پر صوبائی حکام نے تاحال مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ دفاع اور سیکیورٹی سے متعلق خبریں شیئر کرنے والے ایک سوشل میڈیا اکاؤنٹ ’اسٹریٹ کام بیورو‘ کے مطابق، حکومتِ پنجاب نے 2019 کا تیار کردہ ’گلف اسٹریم GVII-G500‘ طیارہ حاصل کر لیا ہے، جس کی تخمینہ قیمت 38 ملین سے 42 ملین ڈالرز (تقریباً 11 سے 12 ارب پاکستانی روپے) بتائی جا رہی ہے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ طیارے کا موجودہ رجسٹریشن نمبر N144S ہے جسے جلد ہی پاکستانی رجسٹریشن میں تبدیل کر دیا جائے گا۔ فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹ ’فلائٹ ریڈار‘ کے مطابق یہ طیارہ 12 فروری سے پنجاب کے مختلف ہوائی اڈوں کے درمیان پروازیں بھی کر رہا ہے۔ امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (FAA) کے ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ یہ طیارہ فی الحال ایک ٹرسٹی کمپنی کی ملکیت ہے جو عام طور پر غیر ملکی شہریوں یا رازداری کے خواہش مند خریداروں کے لیے طیاروں کی خرید و فروخت کی سہولت فراہم کرتی ہے۔
ان سنگین دعووں کی تصدیق یا تردید کے لیے پنجاب کے چیف سیکرٹری زاہد اختر زمان اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری احمد رضا سرور نے پنجاب حکومت کی پوزیشن واضح کرنے کے لیے ڈان کی کالز اور ٹیکسٹ میسجز کا جواب نہیں دیا۔
پنجاب کے ایڈیشنل سیکرٹری (بہبود) وسیم حامد نے ڈان کی اچانک کال منقطع کرنے سے پہلے طیارے کی خریداری کے دعوؤں کی تردید کی۔
ڈان نے پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری سے بھی رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن انہوں نے بھی کسی کال یا ٹیکسٹ میسج کے طور پر بھیجے گئے سوال کا جواب نہیں دیا۔
حکام کی اس خاموشی کے درمیان، طیارے کی مبینہ خریداری پر تنقید جاری ہے، جس میں سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل اور سندھ کے سابق گورنر محمد زبیر بھی شامل ہیں۔