ہوشیاری کام نہ آئی:ایران کی طرف پاکستانی جھکائو کے باعث متحدہ عرب امارات نے قرض واپس مانگا

متحدہ عرب امارات کا موقف ہے ایران کے معاملے پر کسی بھی قسم کی ‘غیر جانبداری’ یا ‘ثالثی’ کی گنجائش نہیں تھی

ڈاکٹر اختر گلفام ، ڈائریکٹر نیوز ڈان ٹی وی ، ایڈیٹر انچیف ڈان لندن،نوائے وقت

لندن/اسلام آباد: برطانوی اخبار ’فنانشل ٹائمز‘ نے ایک حالیہ تجزیاتی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی سیاست اور تزویراتی اختلافات کے باعث متحدہ عرب امارات نے پاکستان سے 3.45 ارب ڈالر کا قرض فوری طور پر واپس مانگ لیا ہے۔

اس غیر معمولی مطالبے کے پیچھے پاکستان کی وہ خارجہ پالیسی ہے جس میں اسلام آباد نے ایران اور دیگر علاقائی طاقتوں کے درمیان ‘ثالث’ کا کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔

اخبار نے دفاعی اور سیاسی تجزیہ کاروں کے حوالے سے ان وجوہات کی نشاندہی کی ہے جن کی بنا پر اماراتی قیادت نالاں نظر آتی ہے۔

متحدہ عرب امارات کا موقف ہے کہ ایران کے معاملے پر کسی بھی قسم کی ‘غیر جانبداری’ یا ‘ثالثی’ کی گنجائش نہیں تھی۔ یو اے ای کا خیال تھا کہ پاکستان کو واضح طور پر خلیجی ممالک کے بلاک کا ساتھ دینا چاہیے تھا، لیکن پاکستان نے ثالث بننے کی کوشش کی۔

تجزیہ کاروں کا دعویٰ ہے کہ پاکستان کا حد سے زیادہ سعودی عرب کی طرف جھکاؤ بھی اماراتی حکام کو پسند نہیں آیا۔ متحدہ عرب امارات اپنی الگ شناخت اور آزادانہ علاقائی پالیسی کے تحت پاکستان سے مکمل وابستگی کی توقع رکھتا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *