پیپلز پارٹی، جمعیت علما اور ن لیگ دوسروں کو یہودی ایجنٹ کہہ کر سیاسی سکورنگ ، حکومت اور مفادات حاصل کرتی ہیں
لاہور سے ممتاز تجزیہ نگار یوسف غوری کی برطانیہ سے سب سے زیادہ شائع ہونے والے اور نیوز پیپرآف دی ائرکا ایوارڈ حاصل کرنے والےاخبار نوائے وقت اور ڈان ٹی وی کے لئے معلوماتی تحریر
یہودی ایجنٹ کا مسئلہ: پاک ملک پاکستان میں یہودی ایجنٹ کا الزام لگا کر کسی کو بھی بدنام کیا جا سکتا رہا ہے۔اس مسئلے کو سمجھنے کے لئے اس ٹرائکا کے کھیل کو سمجھنا ضروری ہے، جو انڈیا اسرائیل اور امریکا کا باہم ایک مثلث کی طرح مل کر ایک دوسرے سے تعاون کرتا ہے اور ایک دوسرے کے تعاون سے دوسرے اسلامی ملکوں کی آڑ بھی لیتا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ مسلم ممالک یہ کام ذوق شوق سے کرتے بھی ہیں، جس کا معاوضہ یا کچھ رعائتیں بھی حاصل کرتے ہیں۔حالات واقعات مشاہدات سے مستفیض ہونے والے افراد کو دیکھ کر بڑی بڑی رپورٹوں یا ڈیٹا کی ضرورت نہیں ہوتی ایک ذی شعور انسان کو صاحبِ بصیرت ہونا ہی کافی ہوتا ہے، جس کا اپنا ضمیر ، اپنی سوچ، اپنی شخصیت اور اپنا کردار ہو۔اور جس کی پے در پے ہونے والے واقعات پہ گہری نظر ہو۔ ان واقعات سے کس کا بھلا اور کس کا نقصان ہوتا ہے ، وہ ہر بصیرت والا شخص سمجھ سکتا ہے۔فیضیاب ہونے والے لوگ کسی سازش کا حصہ بنتے ہیں تو مستفیض ہوتے ہیں۔پاکستان کی موجودہ ریجیم چینج کے بڑے بینی فشری اس وقت ملک میں سیاہ و سفید کے مالک و مختار ہیں کیونکہ یہی عناصر ریجیم چینج سازش کے شراکت دار تھے۔اس بات کو سمجھنے کے لئے کوئی ثبوت نہیں صرف آدمی کا صحیح الدماغ اور ذی شعور ہونا کافی ہے۔ریجیم چینج کا سب سے زیادہ فائدہ پی ڈی ایم کے جماعتوں کو ہوا، کیوں؟ کیونکہ یہ کھیل انہوں نے غیروں کو ساتھ ملا کر کھیلا ہے۔
پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ نے حضرت قائد اعظم کی ہدائت پر اقوام متحدہ میں فلسطین کا مقدمہ جس جانفشانی سے پیش کیا تھا خود فلسطینی بھی پیش نہیں کر سکے تھے۔جس کا اثر یہودیوں پہ بہت گہرا ہوا اور انہوں نے محسوس کر لیاتھا کہ دنیا میں پاکستان واحد ملک ہے جو اسرائیل کو نکیل ڈال سکتا ہے، اس لئے پاکستان کو دشمن نمبر ایک قرار دے کر پاکستان کا بندوبست کرنے کی سازشیں شروع ہوگئیں تھیں اور پاکستان میں یہودی ایجنٹ اپنا کام کرنا شروع کر چکے تھے۔جن مشکلات سے گزر کر پاکستان پہلی مسلم ریاست ایٹمی طاقت بنا ، اس کے راستے میں اسرائیل ہی روکاوٹیں ڈال رہا تھا ، اور امریکہ اس کی تائید میں پابندیاں لگا رہا تھا۔
1969 میں مسجد اقصیٰ کے ایک دروازے کو آگ لگا کر یہودیوں نے ایک ڈرامہ رچایا اور تمام مسلم ممالک کی ایک تنظیم بیت المقدس کی حفاظت کا دعویٰ کرکے اسلامی کانفرنس رباط مراکش میں منعقد کی گئی۔ جس کا اتحاد بظاہر تو بیت المقدس کی حفاظت تھا مگر دراصل یہ اسرائیلی ریاست کی محافظ بنی اور اسرائیل کے خلاف کوئی عملی قدم کبھی نہ اٹھا سکی۔ کانفرنسیں ہوتی رہیں مگر کبھی اجتماعی اقدام نہ اٹھا یا گیا۔ اس کا کردار صفر جمع صفر سے آگے نہ بڑھا۔ اور یہ کانفرنس مسلم اتحاد کے لئے ایک مذاق ثابت ہوئی مگر امریکی ایما پہ یہ متحرک ہوتی رہی اور جہاں امریکی مفاد تھا وہاں یہ کام بھی آتی رہی۔ خاص طور پہ سوویٹ یونین کی شکست میں اؤ آئی سی کا خاص کردار عملی شکل میں دیکھا گیا۔ اور مسلم دنیا میں بڑے بڑے مجاہدین پیدا ہوئے، 9/11 کے بعد جب صدر بش نے کہا کہ Come with us or go with the enemy تو یہی مجاہدین امریکی قہر کا نشانہ بنے۔ جنرل پرویز مشرف نے گھبرا کر او آئی سی کی کانفرنس منعقدہ ابو ظہبی میں یہ مسئلہ پیش کیا کہ اب کیا کرنا ہے، اگر مسلم ریاستیں اس کا ساتھ دیں تو وہ امریکہ کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہو جائے، مگر یہ کانفرنس بے سود ثابت ہوئی اور سب نے امریکہ کا ساتھ دینے پہ ہی رضا مندی ظاہر کی تھی۔ تب پاکستان امریکہ کے سامنے مکمل طور پہ لیٹ گیا اور امریکی حمائت میں فرنٹ لائن سٹیٹ بن کر ابھرا۔پھر افغانستان پہ حملہ ہوا اور پاکستان سہولت کار بنا رہا۔ اپنے شہریوں کو ایک پرائی جعلی جنگ میں جام شہادت کی خوشخبریاں دیتا اور دہشت گرد ہلاک کرتا رہا تھا۔ یہودی اپنا رستہ صاف کرتے رہے۔ غزہ فلسطین میں تابڑ توڑ بمباری پہ کتنی او آئی سی کی میٹنگز ہوئیں؟ لگتا ہے پوری او آئی سی ہی اسرائیلی ایجنٹ بن چکی تھی۔ عرب ریاستوں کے حکمرانوں کو اپنی بادشاہتیں زیادہ محبوب ہیں اور اسرائیل امریکہ کے ذریعے ان کو باور کروا چکا تھا کہ اپنے بادشاہتیں محفوظ رکھنا چاہتے ہو تو اسرائیل کے خلاف کوئی قدم نہ اٹھانا۔ یہ خوف انہیں اسرائیل کے خلاف کسی مزاحمتی یا مذمتی بیان تک دینے سے باز رکھتا رہا ہے۔ ایران پہ موجودہ امریکی اسرائیلی ایپک فیوری کے نام سے جنگ میں او آئی سی نے کتنے اجلاس بلائے؟ ایران کی او آئی سی نے کیا مدد کی؟ او آئی سی اسرائیلی ایجنٹ نہیں تو اور کیا ہے؟؟؟ ورنہ مسلم ممالک پہ حملہ ہونے پہ او آئی سی اپنا کوئی اجلاس بلاتی نا؟ او آئی سی مسلم ممالک کی نہیں اسرائیل کی حفاظت کے لئے کام کرتی ہے اور بظاہر لگتا ہے کہ یہ مسلم ممالک کی تنظیم ہے۔مسلم ممالک کے فائدے کے لئے یہ تنظیم تھی ہی نہیں بلکہ مسلمان ممالک کو یکجا کر کے اسرائیل کے خلاف کسی محاذ آرائی سے اسے اجتماعی طور پہ روکنا مقصود تھا۔ ثبوت کے لئے پوری تاریخ کا مشاہدہ کر لیں۔ اتنی یادداشت تو سب کے پاس ہوتی ہے۔
ایران اسرائیل امریکہ جنگ ایپک فیوری، دراصل گریٹر اسرائیل کی منصوبہ بندی تھی۔ اور اس کے لئے مسلمان ممالک کو خصوصی طور پہ خلیجی ریاستوں اور سعودی عرب کا سب سے بڑا دشمن ایران بنا کر پیش کیا گیا اور عربوں کی ہمدردی امریکی ایما پہ اسرائیل کی طرف جھکی ہوئی تھی۔متحدہ عرب امارات نے تو سعودی عرب کو بھی اپنا دشمن سمجھنا شروع کردیا تھا، اور ایران کے خلاف تمام ممکنہ سہولت کاری بھی کی، امارات پہ بھارتی اثرات اور اسرائیلی گرفت دوہری اور امریکی تسلط تہری مسلط شدہ طاقتیں جنہوں نے امارات کو مسلمان ممالک کے خلاف نہ صرف زہر اُگلنے کا کام کیا بلکہ آگ و بارود سے بھرے میزائل بھی برسائے۔امارات سب سے بڑا یہودی ایجنٹ بن کر سامنے آیا، پاکستان سے اپنے قرض کی طلبی کی ایمرجنسی تک پیدا کر دی۔ بھارت اور اسرائیل نے اپنی اپنی سیاسی فکر کے حساب سے گریٹر اسرائیل اور اکھنڈ بھارت کے راگ الاپ کر امریکی تائید بھی حاصل کی جس سے ایک ساتھ گریٹر اسرائیل کا خواب اور مودی کا اکھنڈ بھارت کا وشواس دونوں کو دفاعی شراکت دار بنا کر پاکستان اور دیگر مسلم ممالک کے خلاف استعمال کیا۔ خلیجی ممالک اور سعودی عرب میں بھارت نے اپنا اثرو رسوخ بڑھا کر دراصل پاکستان کو نیچا دکھانے کا تماشہ کیا تھا۔ مگر سارے مسلمان ممالک اسرائیلی منصوبے کا شکار نہیں ہوئے اور بھارتی منافقت بھی زیادہ دیر کام نہ کر سکی۔ ایران نے ایک ہی جوابی کاروائی سے بھارت اور اسرائیل سمیت امریکہ کے دانت کھٹے کر دئیے۔ پاکستان تو پہلے ہی بھارتی آپریشن سندور کا تندور بنا چکا تھا۔
آخر افغان طالبان حکومت کو پاکستان کے خلاف اکسایا گیا اور بھارتی اسرائیلی گٹھ جوڑ نے کچھ آگ و بارود کو ہوا دی جو جلد ہی بجھا دی گئی۔ یہودی ایجنٹ امارات اور افغانستان تو بے نقاب ہوچکے۔ کچھ کا چہرہ صاف نظر نہیں آتا مگر ایسے بھی ہیں۔
دیگر مسلم ریاستیں، بھارت یا امریکہ اور یا براہ راست اسرائیل سے کچھ نا کچھ سفارتی تعلق بھی رکھتی ہیں۔ مگر اسرائیلی ایجنٹ نہیں ، نہ ہی اسرائیل کے خلاف کوئی محاذ آرائی کرتی ہیں۔ جیسے ترکی اور اردن یا مصر وغیرہ۔ ایک ایران کو فلسطین کا جتنا درد ہے اور وہ تنہا جتنا اسرائیل کی محاذ آرائی میں اسرائیل کو خطرناک لگتا ہے وہ پوری مسلم ورلڈ سے بھی نہیں ڈرتا۔پاکستان میں انتہا پسند یا شدت پسند جماعتیں یا بہت زیادہ مذہب پسند جماعتیں بھی ایک آدھ ریلی اسرائیل کے خلاف نہیں نکالتیں۔ مگر مقامی عقیدوں کی بنیاد پر ایک دوسرے پہ لعن طعن کرکے ملک میں فرقہ ورانہ عوامی جذبات تو بھڑکاتی دیکھی گئیں ہیں مگر اسرائیل پہ کوئی فتویٰ صادر کر کے جہاد کا اعلان نہیں کرتیں۔ کیا یہ سب ملک میں انتشار پھیلا کر اسرائیلی ایجنڈے کو یہاں پھیلاتی ہیں؟ پی پی اور ن لیگ ، پی ٹی آئی اور دیگر سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کو یہودی ایجنٹ کہہ کر سیاست تو کرتی ہیں مگر ان میں سے کسی کو یہودی ایجنٹ کہنا ملکی سیاست میں سیاسی سکورنگ کا کام توکرتا ہے۔ قادیانی کافر ہیں، سب جانتے ہیں مگر قادیانیوں کو دیوار سے لگا کر ان کے بنیادی انسانی حقوق پہ ضرب لگا کر ہم انہیں یہودی ایجنٹ بننے کا رستہ خود دیتے ہیں۔ جب ملک میں ان کی جان مال عزت محفوظ نہیں تو پھر وہ کسی کے بھی ایجنٹ بن سکتے ہیں۔ختم نبوت کی سیاست نے ہماری چند ایک سیاسی جماعتوں کو معاشرے میں کافی پذیرائی دی ہے اور ختم نبوت کا نعرہ بھی کافی حد تک ایک سیاسی بنیاد بن کر معاشرے میں کسی تعمیرو تربیت و ترقی کا کام نہیں کر سکا۔ ریجیم چینج ایک یہودی ایجنڈا تھا جو امریکہ نے اپنے منصوبے اسرائیل کی حمائت میں پایہ تکمیل تک پہنچانے کی خاطر پی ٹی آئی کی حکومت گرائی جس میں مقامی سہولت کار وں کی مکمل شراکت داری شامل تھی اور اب وہی حکومت ایران کی جنگ میں امن مذاکرات کرواتی ہے جس کا فائدہ امریکہ کو ہوتا ہے اور بالواسطہ طور پر اسرائیل کا کام آسان ہوتا ہے۔ میرے منہ میں خاک، یہ ہم کیا ہوتا دیکھ رہے ہیں؟ کیا ہم یہودی ایجنٹ کہیں باہر سے ڈھونڈ رہے ہیں؟ اپنے اندر بھی ٹٹولیں اور کھنگال کر دیکھیں کہ یہ یہودی ایجنٹ ہماری قومی سیاست میں کون ہے؟؟؟ جب تک گریٹر اسرائیل کا خمار اور اکھنڈ بھارت کا بخار نہیں اترتا ، یہودی ایجنٹ، بھارتی ایجنٹ اور غدارِ قوم کبھی بلوچستان میں کبھی سندھ میں اور کبھی کے پی کے میں سننے کو ملتے رہیں گے۔ اور اگر پنجاب میں بھی اس کی پنیری تیار ہو گئی اور ملک میں صوبائی تعصب و نفرت کا زہر پیدا ہو گیا تو یہ کس یہودی ایجنٹ کا کام ہوگا؟ عوام کو ان کے جمہوری حقوق سے محروم کرکے انہیں کس کا ایجنٹ بنائیں گے؟اپنے ہی عوامکو پرائی غلامی کی طرف کون دھکیلتا ہے؟ پاکستان سدا سلامت رہے۔آمین۔
یہودیوں کی ترقی کو دیکھیں اور اپنی پسماندگی کو دیکھیں تو کیا یہودی ایجنٹ ہماری ترقی کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں۔ ؟؟؟؟؟تعلیم سائنس ٹیکنالوجی زراعت صنعت اور تنظیمی و جمہوری و اداراتی ترقی جو یہودیوں نے حاصل کی ہے وہ مسلمانوں سے کس نے چھینی ہیں ؟تحقیق اور تخلیق میں نوبل انعامات یہودی مسلمانوں سے اتنا زیادہ آگے کیوں ہیں؟کون سے یہودی ایجنٹ مسلمانوں کو پسماندہ اور ترقی پذیر رکھنا چاہتے ہیں؟ ہم اپنی معاشرتی،سیاسی،آئینی، معاشی، نفسیاتی، ثقافتی اور تہذیبی ساخت کی اٹھان کو اگر سمجھیں تو یہ سب یہودیوں نے نہیں پیدا کیں۔یہ سب کچھ ہماری روائتی پسماندگی و جہالت کی پیداوار ہیں۔یہ روائتی پسماندگی و جہالت ہمارے رویوں ، عادتوں، سوچنے کے انداز ، سمجھنے کے طریقوں اور سمجھانے کے اطوار پہ مبنی ہیں جو کسی یہودی نے نہیں بلکہ ہمارے اپنے نسل در نسل چلتے چلے آئے باپ دادا کے تربیت کا کمال ہیں۔کیا وہ بھی بادل خواستہ یہودی ایجنٹ کا کام کررہے تھے؟
کبھی یہودی ہماری احادیث میں اپنے مطلب کی تحریف کر لیتے ہیں، کبھی قادیانی اپنے مطلب کی قرآن پاک میں ترجمے سے اپنی من مانی ترجیم کر لیتے ہیں، کبھی کوئی اور ہماری تاریخ کا کوئی اور مطلب نکال لیتا ہے، کبھی کوئی فرقہ آپسی فرقہ واریت کی شدت بڑھا نے کے لئے کوئی قصے بنا لیتا ہے۔ ایک خدا ایک رسول ﷺ ایک قبلہ کو ماننے والے کبھی متحد نہیں ہوتے اور اپنی گروہی سیاسی مفادات کا میلہ سجا لیتے ہیں، ہم کیا ہیں کس بات پہ متفق ہیں کس بات پہ ایک جان ہوسکتے ہیں کس بات پہ ایک نقطہ نظر پہ جمع ہوسکتے ہیں، کوئی ہمیں پان اسلامزم کی بات کرتا ہے ، کوئی ملتِ واحدہ کی بات کرتا ہے، کوئی کچھ تو کوئی کچھ کہتا ہے ، بھانت بھانت کی بولیاں سنتے ہیں اور منتشر رہتے ہیں ، الزام یہودی ایجنٹوں پہ ڈال کر خاموش ہوجاتے ہیں۔یہودیوں کا سایہ ہماری فکر سوچ عقیدہ سیاست معیشت معاشرت اور نفسیات پہ ایسا پڑتا ہے کہ ہم مسلمان ہوتے ہوئے بھی مسلمان نہیں لگتے۔سلطنت عثمانیہ کی بالقنائزیشن کے بعد چھوٹی چھوٹی ریاستوں کی سرداری سے آگے ہم کبھی نہ سوچ سکے، اور قومی ریاستیں بنا کر ہم اپنی علاقائی و قومی جغرافئے میں بند ہو کر ایک الگ الگ کوزے میں بند ہیں۔یہودی کوزہ گر، ہم سب کوزہ پرستوں کو ایک گردانتا ہے اور سب کو الگ الگ جوتے مرواتا ہے۔ کبھی امریکہ سے کبھی ایکدوسرے سے الجھا کر۔ہمارا اتفاق ِ رائے کس بات پہ ہے، ہمیں کچھ پتہ تو چلے۔ذہنی انتشار، معاشی دیوالیہ پن، کرپشن کا طوفان، بے ایمانی، ناانصافی، اپنی ہی عوام پہ ظلم اور سیاسی خلفشار نے دنیا میں غیرت و عزت کے ساتھ جینے کے اسباب و وسائل بھی منجمد کر دئیے ہیں۔کیا ان سب کےذمہ دار یہودی ایجنٹ ہیں یا ہم خود ہی یہودی پیروکار بن کر ان کے اشاروں پہ چل رہے ہیں؟ ساری دنیا کے مسلمانوں سے ہماری گزارش ہے کہ ایک دانشورانہ و مفکرانہ نشست بلائی جائے اور اپنی تطہیر کا عمل شروع کیا جائے اور سیاسی و معاشی و علمی و تحقیقی و کاروباری سطح پہ خود کو مکمل طور پہ عزت و غیرت کے ساتھ جینے کے راستے نکالنے کا سوچنا چائیے۔ ورنہ یہ جینا بھی کیا جینا ہے اور زخمی زخمی سینہ ہے!!!
دنیا کے سارے مسلمان باقاعدگی سے ہر نماز میں درودِ ابرہیمی پڑھتے ہیں اور روز کہتے ہیں، کما بارکت علیٰ ابراہیم و علیٰ آلِ ابراہیم، ہم حضرت موسیٰ ؑ کواللہ کا سچا نبی مانتے ہیں اور اپنے بچوں کا نام موسیٰ رکھتے ہیں۔یہودیوں نے اسلام کو پیدا ہونے سے عروج تک پہنچتے دیکھا ہے، مگر وہ ایک ہدائت کا راستہ قبول کرنے کی بجائے گمراہی کے رستے پہ چل کر ذلت کے گہرائیوں میں گرے ہوئے ہیں۔ دنیاوی اسباب و وسائل پہ قبضہ کرنے سے اپنی گمرہی کو اور پروان چڑھانے میں لگے ہوئے دنیا میں فتنہ فساد برپا کرنے میں لگے رہتے ہیں۔ اس لئے اکثر لوگوں نے یہ محسوس کیا ہے اور کہا ہے کہ دنیا میں یا جس علاقے میں یہودی ہیں وہاں امن قائم نہیں رہ سکتا۔ ہم خود اپنی گمرہی کا شکار ہیں مگر مقابلہ یہودیوں سے کرتے ہیں۔ کون زیادہ گمراہ ہے ، یہ فیصلہ تو اسی احکم الحاکمین کے پاس ہے۔مگر رحمت اللعالمین و خاتم النبین ﷺ کے ماننے والے کیسے گمراہ ہو گئے؟عوام خود ذمہ دار ہیں یا ہمارے ملکوں کے حاکم ہی ایسے ہیں؟