سٹاف رپورٹرنوائے وقت ، ڈان ٹی وی رپورٹ
لاہور:پنجاب حکومت نے سرکاری پراجیکٹس کی تشہیر اور اشتہارات کے اجرا سے متعلق نیا قانون لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس نئے قانون کے تحت تشہیر کے معاملات کو عدالتوں میں چیلنج نہیں کیا جا سکے گا۔
پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے مذکورہ قانون کا مسودہ ایوان میں جمع کروایا ہے۔
موجودہ پنجاب حکومت اخباری اشتہارات کی وجہ سے ماضی میں تنقید کی زد میں رہی ہے۔ خاص طور پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی حکومت کے ایک سال مکمل ہونے پر غیر معمولی اشتہاری مہم کو اپوزیشن نے تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
سابق وزیراعظم نواز شریف کے تیسرے دوسرے دورِ حکومت میں سپریم کورٹ کے اُس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے از خود نوٹس لیا تھا جس کے تحت انہوں نے سرکاری اشتہارات میں سیاسی رہنماؤں کی تصاویر پر پابندی عائد کر دی تھی۔
مسلم لیگ ن کی حکومت خاص طور پر پنجاب میں اپنے پراجیکٹس کی تشہیر کی وجہ سے اب بھی خبروں میں رہتی ہے۔
نئے قانون کے مسودے کے تحت حکومت کو یہ مکمل اختیار ہو گا کہ وہ کسی بھی سرکاری پراجیکٹ کی تشہیر کسی بھی پلیٹ فارم (ٹی وی، اخبار یا پھر ڈیجیٹل) پر اپنی مرضی سے کر سکتی ہے۔
اسی طرح کسی بھی سرکاری پراجیکٹ کا نام رکھنے یا تبدیل کرنے اختیار بھی حکومت کے پاس ہو گا۔
اس قانون کا نام ’پنجاب پبلک اوئیرنیس اینڈ ڈیسیمینیشن آف انفارمیشن (عوامی آگاہی و معلومات ترسیل) بل 2025‘ رکھا گیا ہے۔ پنجاب اسمبلی سے منظور ہونے اور گورنر کے دستخط کے بعد یہ بل ایکٹ میں تبدیل ہو جائے گا۔
اس نئے قانون کے مسودے میں کہا گیا ہے کہ کوئی بھی عدالت چاہے وہ سول کورٹ ہی کیوں نہ ہو، اس ایکٹ کے تحت پیدا ہونے والے کسی بھی مسئلے کو سُننے کا اختیار نہیں رکھتی۔
’اسی طرح کوئی بھی سرکاری افسر و اہلکار جس نے اس قانون کے تحت اپنا اختیار استعمال کیا ہو گا اس کے خلاف کسی بھی قسم کا مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا۔‘