حکومت نے احتجاج سے نمٹنے کے لیے ریاست میں بجلی،انٹرنیٹ، موبائل اور لینڈ لائن سروس مکمل بند کر رکھی ہے،’پرامن احتجاج پر بھرپور طاقت کا استعمال
سٹاف رپورٹرز، نمائندگان نوائے وقت ، ڈان ٹی وی رپورٹ
میرپور/مظفر آباد:پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں وفاقی حکومت کے ساتھ مطالبات پر ڈیڈلاک کے بعد جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے پوری ریاست میں لاک ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کی اور منگل کو بھی اس علاقے میں کشیدگی برقرار ہے۔
پیر کو مختلف جگہوں پر احتجاج کے دوران پرتشدد واقعات میں ایک شہری جان سے گیا جبکہ 27 سے زیادہ کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔
حکومت نے احتجاج سے نمٹنے کے لیے اتوار دن 12 بجے سے پوری ریاست میں انٹرنیٹ، موبائل اور لینڈ لائن سروس مکمل بند کر رکھی ہے۔
کمیٹی کے 38 مطالبات ہیں جن میں اشرافیہ کی مراعات ختم کرنا اور کشمیر میں پن بجلی میں رائلٹی شامل ہیں۔
تاہم سب سے متنازع مطالبہ، جس پر حکومت کے ساتھ ڈیڈلاک ہے وہ ان 12 نشستوں کے خاتمے کا ہے جو جموں و کشمیر کے مہاجرین کے لیے قانون ساز اسمبلی میں مخصوص ہیں۔
گذشتہ برس نومبر میں ایکشن کمیٹی نے پہیہ جام ہڑتال کر کے راستے بند کر دیے تھے۔
کمیٹی نے پیر مظفر آباد اپر اڈا میں ایک اجتماع اکٹھا کیا جس میں شرکا نے حکمرانوں اور ریاستی مشینری پر شدید تنقید کی، جبکہ کمیٹی کے عہدے داروں نے رات 12 بجے سے ریاست بھر کے تمام داخلی مقامات بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔
کمیٹی کا دعوی ہے کہ ’پرامن احتجاج پر ریاست کی جانب سے طاقت کا استعمال کیا گیا۔‘