برطانیہ: نامعلوم افراد کا شہزاد اکبر پر دوسرا جان لیوا حملہ، ناک اور جبڑے کی ہڈی ٹوٹ گئی، نوائے وقت ، ڈیلی ڈان ، ڈان ٹی وی اور اوکے ٹی وی کو حملے کی تصدیق

ڈاکٹراختر گلفام ایڈیٹر انچیف نوائے وقت ،ڈائریکٹر نیوز ڈان ٹی وی

کیمبرج:سابق وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی مرزا شہزاد اکبر پر برطانیہ میں نامعلوم افراد نے حملہ کردیا جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوگئے۔

سابق وزیر اعظم عمران خان کے خصوصی معاون مرزا شہزاد اکبراپریل 2022 سے جلاوطنی میں مقیم ہیں، ان کے گھر پر کیے گئے حملے کے نتیجے میں وہ زخمی ہوئے ہیں۔

مرزا شہزاد اکبر نے بتایا کہ ان پر حملہ ہوا، وہ اسپتال گئے اور پولیس سے بھی رابطہ کیا گیا، انہیں چوٹیں آئی ہیں اور فریکچر بھی ہوا ہے۔

تحریک انصاف کے ایکس اکاؤنٹ پر پوسٹ کے مطابق شہزاد اکبر پر صبح کے وقت کیمبرج میں ان کے گھر پر حملہ کیا گیا، پوسٹ میں کہا گیا کہ حملہ آور نے ان کے چہرے پر بار بار مکے مارے جس کے نتیجے میں ان کی ناک اور جبڑا ٹوٹ گیا۔ پارٹی کے مطابق مقامی پولیس نے تمام تفصیلات جمع کرلی ہیں اور تفتیش جاری ہے۔

مرزا شہزاد اکبر نے برطانیہ سے سب سے زیادہ شایئع ہونے والے اور نیوز پیپر آف دی ایئرکا اعزاز حاصل کرنے والے اخبار نوائے وقت ، ڈیلی ڈان ، ڈان ٹی وی اور اوکے ٹی وی کے رابطہ کرنے پر ٹیکسٹ پیغامات میں تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ان پر حملہ ہوا، وہ اسپتال گئے اور پولیس سے بھی رابطہ کیا گیا، انہیں چوٹیں آئی ہیں اور فریکچر بھی ہوا ہے۔

تحریک انصاف کے ایکس اکاؤنٹ پر بدھ کی شب 9:50 بجے (پاکستانی وقت) کی گئی پوسٹ کے مطابق شہزاد اکبر پر صبح کے وقت کیمبرج میں ان کے گھر پر حملہ کیا گیا۔ پوسٹ میں کہا گیا کہ حملہ آور نے ان کے چہرے پر بار بار مکے مارے جس کے نتیجے میں ان کی ناک اور جبڑا ٹوٹ گیا۔ پارٹی کے مطابق مقامی پولیس نے تمام تفصیلات جمع کرلی ہیں اور تفتیش جاری ہے۔

تحریک انصاف کی حکومت میں احتساب سے متعلق مشیر رہنے والے مرزا شہزاد اکبر اس سے قبل نومبر 2023 میں بھی ہارٹفورڈشائر میں اپنے گھر پر حملے کا نشانہ بن چکے ہیں۔ اس وقت ایک نقاب پوش شخص نے ان پر تیزابی مادہ پھینکا تھا۔ اکبر نے اس واقعے کے بعد ایکس پر بیان دیا تھا کہ وہ نہ تو مرعوب ہوں گے اور نہ ہی جھکیں گے۔

مرزا شہزاد اکبر نے اس حملے کو القادر ٹرسٹ کیس سے جوڑا تھا جو تحریک انصاف کے بانی عمران خان کے خلاف ہے، اور الزام عائد کیا تھا کہ سکیورٹی ادارے ان پر سابق وزیر اعظم کے خلاف گواہی دینے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔ انہوں نے ڈان کو یہ بھی بتایا تھا کہ حالیہ مہینوں میں انہیں پیغامات موصول ہوئے جن میں انہیں اپنے رویے درست کرنے کی وارننگ دی گئی۔

اپریل 2024 میں مرزا شہزاد اکبر نے تیزاب حملے کے معاملے پر پاکستان کی حکومت کے خلاف برطانیہ کی عدالت میں قانونی کارروائی شروع کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے برطانیہ میں پاکستان ہائی کمیشن اور دیگر پاکستانی حکام کو بھی نوٹس بھیجے تھے۔ تاہم مئی 2024 میں دفتر خارجہ نے 2023 کے تیزاب حملے میں ریاستی اہلکاروں کے ملوث ہونے کے الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا تھا۔

ادھر اسلام آباد کی ایک عدالت نے ایکس پر مبینہ متنازع بیانات کے ایک مقدمے میں مرزا شہزاد اکبر کو اشتہاری ملزم قرار دیا ہے۔ اس کے بعد وزیر داخلہ محسن نقوی نے برطانیہ کی ہائی کمشنر جین میریٹ سے ملاقات کی اور شہزاد اکبر کی حوالگی کے کاغذات حوالے کیے۔ اگرچہ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان باضابطہ حوالگی معاہدہ موجود نہیں، تاہم دونوں ممالک کے درمیان ایک انتظام موجود ہے جس کے تحت جرائم میں ملوث یا امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے پاکستانی شہریوں کو واپس بھیجا جا سکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *