برطانیہ فلسطین کو فلسطین اتھارٹی کے مشن دفتر کو سفارتخانے کا درجہ دینے والا پہلا ملک بن گیا، پرچم بھی لہرا دیا

فلسطین مشن لندن میں ریاست کو تسلیم کرنے کا جشن، پرچم کشائی کی تقریب،سینکڑوں افراد کی شرکت

سٹاف رپورٹرنوائے وقت ، ڈان ٹی وی رپورٹ

لندن: برطانیہ فلسطین کو فلسطین اتھارٹی کے مشن دفتر کو سفارتخانے کا درجہ دینے والا پہلا ملک بن گیا۔

لندن میں قائم فلسطینی مشن کے دفتر کو سفارت خانہ کا درجہ دیے جانے کے فوری بعد عمارت پر پرچم کشائی کی باوقار تقریب رکھی گئی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فلسطینی سفیر حسام زملوط نے آج کے دن کو قومی جدوجہد کی تاریخ کا ایک سنگ میل قرار دیا۔

فلسطینی سفیر نے برطانوی حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ سفارت خانے کا درجہ دیا جانا نہ صرف تاریخی ناانصافیوں کی تلافی ہے بلکہ آزادی، وقار اور بنیادی انسانی حقوق پر مبنی مستقبل کے عزم کی تجدید بھی ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ برطانوی حکومت کے اس جرات مندانہ اقدام کی اہمیت یوں بھی اور بڑھ گئی ہے کہ اس وقت فلسطینی عوام غزہ میں بمباری، بھوک، مغربی کنارے میں روزانہ کے جبر، زمینوں کی چھین جھپٹ اور ریاستی دہشت گردی کا سامنا کر رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ فلسطین کے پرچم کے رنگ ہماری تاریخ اور ہماری قربانیوں کی داستان سناتے ہیں۔ سیاہ رنگ غم و الم، سفید رنگ امید، سبز رنگ سرزمینِ فلسطین اور سرخ رنگ ہمارے عوام کی قربانیوں کی علامت ہے۔

برطانیہ کی جانب سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے پر لندن میں فلسطینی مشن نے پیر کے روز ایک خصوصی تقریب کا انعقاد کیا، جس میں فلسطینی پرچم بھی لہرایا گیا۔
یہ تقریب اُس علامتی اور سفارتی پیش رفت کے خیر مقدم کے لیے منائی گئی جب برطانیہ نے اتوار کے روز آسٹریلیا، کینیڈا اور پرتگال کے ساتھ مل کر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاسوں سے قبل فلسطین کو باضابطہ طور پر ایک خودمختار ریاست کے طور پر تسلیم کر لیا۔
خیال رہے برطانیہ، آسٹریلیا، پرتگال اور کینیڈا نے اتوار کو فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لیا تھا، جسے مغربی خارجہ پالیسی میں دہائیوں بعد ایک بہت بڑی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *