بین الاقوامی طلبہ کی فیس پر 6 فی صد لیوی عائد کی گئی ہے، مجرمانہ ریکارڈ والے افراد کی برطانیہ سے ملک بدری میں تیزی آئے گی
امیگریشن رپورٹر نوائے وقت
لندن: اوورسیز کے لیے خوشخبری ہے کہ برطانیہ میں مستقل رہائش کے قیام کی مدت بڑھا دی گئی ہے۔
برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے امیگریشن سسٹم میں وسیع پیمانے پر اصلاحات کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت سوشل کیئر ورکر ویزا بند، اور بیرون ملک سے نئی بھرتیوں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
تاہم بری خبری یہ ہے کہ برطانیہ میں مستقل رہائش کے لیے قیام کی مدت 5 سے بڑھا کر 10 سال کر دی گئی، دوسری طرف اسکلڈ ورکر ویزا کے لیے تعلیم کی سطح بڑھا دی گئی، پوسٹ اسٹڈی ورک ویزا کی مدت کم کر دی گئی، اور انگریزی زبان کی مہارت کا معیار بڑھا دیا گیا ہے۔
اسکلڈ ورکر ویزا کے لیے اب کم از کم گریجویٹ سطح کی تعلیم درکار ہوگی، پوسٹ اسٹڈی ورک ویزا کی مدت 2 سال سے کم کر کے 18 ماہ کر دی گئی، جب کہ انگریزی زبان کی مہارت کا معیار بی ون سے بڑھا کر بی 2 کر دیا گیا۔
برطانیہ کا امیگریشن کنٹرول کے لیے سخت اقدامات کا فیصلہ، طلبہ کے لیے بری خبر
ویزا درخواست دہندگان اور بالغ زیر کفالت افراد کے لیے انگریزی زبان کے ٹیسٹ لازمی قرار دیا گیا ہے، بالغ زیر کفالت افراد کے لیے انگریزی زبان کی مہارت کا معیار اے ون سطح پر کر دیا گیا۔
بین الاقوامی طلبہ کی فیس پر 6 فی صد لیوی عائد کی گئی ہے، مجرمانہ ریکارڈ والے افراد کی برطانیہ سے ملک بدری میں تیزی آئے گی۔