سویڈن لڑکیوں کے کنوارے پن کے ٹیسٹوں پر پابندی کا خواہش مند

اس اقدام کا مقصد خواتین کو غیرت کے نام پر قتل اور دیگر جرائم کے خطرے کے خلاف بہتر تحفظ فراہم کرنا ہے

لیڈی رپور ٹرنوائے وقت

سویڈن :سویڈن میں رائج موجودہ ضابطوں کے مطابق ایسے پیشہ ور افراد جو خواتین کے کنوارے پن کے نام نہاد ٹیسٹ کرتے ہیں، ان کے خلاف صرف پیشہ وارانہ نوعیت کی تادیبی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
اس یورپی ملک میں سماجی خدمات کے ذمہ دار ملکی محکمے کا نام سوشل سٹیرلسن ہے۔ اس محکمے کے مطابق سٹاک ہوم حکومت کے متعلقہ وزراء یہ جائزہ لے رہے ہیں کہ نوجوان لڑکیوں اور خواتین کے ‘کنوار پن کی چیکنگ‘ اور ‘کنوار پن کے سرٹیفیکیٹ‘ جاری کیے جانے کو جرم قرار دے کر بھاری جرمانوں کا قانون متعارف کرا دیا جائے۔

اس کے ساتھ ساتھ ایسے طبی آپریشنوں کو بھی قابل سزا جرم قرار دے دیا جائے، جو پھٹ جانے والی ہائمن یا پردہ بکارت کے بحالی کے لیے کیے یا کرائے جاتے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد خواتین کو غیرت کے نام پر قتل اور دیگر جرائم کے خطرے کے خلاف بہتر تحفظ فراہم کرنا ہے۔

’ایسے ٹیسٹوں کی کوئی سائنسی بنیاد نہیں‘
کسی خاتون کا ایسا کوئی ٹیسٹ اس لیے کیا جاتا ہے کہ بظاہر یہ طے کیا جا سکے کہ آیا وہ کنواری ہے۔ اس کے لیے اس کے تولیدی نظام میں اس باریک سے جھلی نما ٹشو کا مشاہدہ کیا جاتا ہے، جسے hymen یا پردہ بکارت کہتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *