بیوروچیف نوائے وقت،ڈان ٹی وی
پشاور:خیبرپختونخوا اسمبلی میں خواتین کی مخصوص نشستوں پر حلف برداری کا معاملہ ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا ہے جس پر اپوزیشن جماعتوں نے اسمبلی اجلاس بلوانے کے لیے قانونی ماہرین سے مشاورت شروع کردی ۔
ذرائع کے مطابق اگر مخصوص نشستوں پر حلف برداری کے لیے خیبر پختونخوا اسمبلی کا اجلاس بروقت اجلاس نہ بلایا گیا تو صوبائی حکومت آئندہ سینٹ انتخابات سے قبل آئینی بحران میں پھنس سکتی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ 21جولائی کو سینٹ انتخابات ہونے جا رہے ہیں اور ان انتخابات سے قبل مخصوص نشستوں پر منتخب خواتین ارکان کی حلف برداری لازمی تصور کی جا رہی ہے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ عدالتی فیصلوں کے بعد بھی اجلاس نہ بلانے کی صورت میں خیبرپختونخوا حکومت کو نہ صرف آئینی بلکہ سیاسی محاذ پر بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی جلد اجلاس طلب کرنے پر غور کر رہے ہیں تاکہ عدالتی احکامات پر عملدرآمد ہو اور صوبائی حکومت سینٹ انتخابات میں کسی قانونی پیچیدگی سے بچ سکے۔
دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں کا موقف ہے کہ مخصوص نشستوں پر عدالتی فیصلے کے باوجود حلف نہ لینا آئین اور جمہوریت کے خلاف ہے، لہذا اس تاخیر کو اب مزید برداشت نہیں کیا جا سکتا۔