سٹاف رپورٹرز ، نمایندگان نوائے وقت ،ڈان ٹی وی ،اوکے ٹی وی رپورٹس
کوئٹہ:چھ اپوزیشن سیاسی جماعتوں نے کوئٹہ کے شاہوانی اسٹیڈیم میں بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) ( بی این پی-ایم) کے عوامی جلسے میں خود کش حملے کے خلاف آج 8 ستمبر کوپورے بلوچستان میں پہیہ جام اور شٹرڈاؤن ہڑتال جاری ہے۔کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں سات سیاسی جماعتوں کی اپیل پر پیر کو شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کی گئی جس کے باعث صوبے کے بیشتر شہروں میں کاروباری و تجارتی مراکز مکمل طور پر بند اور سڑکوں پر ٹریفک نہ ہونے کے برابر رہی۔ بڑی شاہراہوں پر بھی رکاوٹیں کھڑی کر کے آمد و رفت معطل کر دی گئی۔
صوبے کے تمام چھوٹے بڑے شہر اور کاروباری مراکز مکمل بند ہیں۔
یہ ہڑتال بی این پی-ایم، پی ٹی آئی، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی ، نیشنل پارٹی، مجلس وحدت المسلمین اور جماعت اسلامی سمیت چھ سیاسی جماعتوں نے مشترکہ طور پرکی ہے۔
بلوچستان میں طول و عرض میں اتنی مؤثر ہڑتال دیکھنے میں آئی جس کے دوران معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوئے۔
کوئٹہ، چمن، پشین، قلعہ عبداللہ، قلعہ سیف اللہ، ژوب، لورالائی، دکی، مستونگ، قلات، سوراب، خضدار، خاران، واشک، چاغی، نوشکی، پنجگور، تربت، گوادر، سبی، نصیرآباد ،جعفرآباد، کوہلو اور دیگر اضلاع میں بیشتر کاروباری مراکز اور تجارتی مراکز بند رہے۔ سڑکوں پر ٹریفک بھی نہ ہونے کے برابر تھی۔
کوئٹہ کے لیاقت بازار، جناح روڈ، کندھاری بازار، زرغون روڈ اور سرکی روڈ سمیت نواحی علاقوں میں بھی دکانیں بند اور ٹریفک معطل رہی۔ اس صورت حال نے عوام کو سخت مشکلات میں ڈال دیا خاص طور پر مریضوں اور ہسپتال جانے والے افراد کو دشواری کا سامنا کرنا پڑا جبکہ کئی علاقوں میں تندور، ہوٹل اور میڈیکل سٹور بھی بند رہے۔
ہڑتال سے دو دن قبل محکمہ داخلہ بلوچستان نے صوبے بھر میں دفعہ 144 نافذ کرکے اعلان کیا تھا کہ زبردستی دکانیں اور سڑکیں بند کرانے والوں کے خلاف کارروائی ہو گی جبکہ دس سے زائد افراد کے اجتماع پر بھی پابندی ہو گی۔
۔