دنیا کے مختلف ممالک میں 50 ہزار سے زائد پاکستانی طلبہ میڈیکل میں زیرتعلیم ، زیادہ تر پاکستانی طلبہ چین اور وسطی ایشیائی ریاستوں کا رُخ کرتے ہیں
ایجوکیشن رپورٹرنوائے وقت ، ڈان ٹی وی ، اوکے ٹی وی رپورٹ
اسلام آباد: عقل سے عاری حکمرانوں نے طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگا دیا۔ پاکستان میڈیکل کونسل کی نئی پالیسی، چین اور یورپ سے ڈگری حاصل کرنے والے طلبہ کی ڈگری نہیں مانی جا ئے گی ۔دنیا کے مختلف ممالک میں 50 ہزار سے زائد پاکستانی طلبہ میڈیکل کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں ،میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے زیادہ تر پاکستانی طلبہ چین اور وسطی ایشیائی ریاستوں کا رُخ کرتے ہیں
پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کی جانب سے جاری ہونے والا ایک نوٹس اس خواب کو دُھندلا دینے کا سبب بن گیا ہے۔
اچانک پالیسی کی اس تبدیلی نے ان طلبہ اور ان کے خاندانوں کو غیر یقینی کی کیفیت میں مبتلا کردیا ہے جو پہلے ہی اپنی تعلیم پر خطیر سرمایہ اور وقت صرف کر چکے ہیں۔
نئی پالیسی سے ہزاروں طلبہ کیسے متاثر ہوں گے؟
اسلام آباد سے جاری پی ایم ڈی سی کے تازہ ترین فیصلے نے ہزاروں پاکستانی طلبہ کو غیر یقینی کے بھنور میں ڈال دیا ہے۔
رواں برس آٹھ ستمبر کو جاری ہونے والے پبلک نوٹس کے مطابق اب صرف وہی فارغ التحصیل طلبہ پاکستان میں ہاؤس جاب یا پروویژنل رجسٹریشن حاصل کر سکیں گے جنہوں نے پی ایم ڈی سی کے تسلیم شدہ اداروں سے تعلیم حاصل کی ہو۔
اس اعلان کے ساتھ ہی غیرملکی اداروں کی وہ فہرست جو ماضی میں پی ایم ڈی سی کی ویب سائٹ پر دستیاب تھی، ختم کر دی گئی ہے۔
یہ فیصلہ اچانک سامنے آنے کے بعد سب سے زیادہ متاثر وہ طلبہ ہوئے ہیں جو اس وقت چین، روس، کرغزستان، قازقستان، آذربائیجان اور مشرقی یورپ کے مختلف ممالک میں زیرِتعلیم ہیں۔
یہ نوجوان جب ان ممالک کی یونیورسٹیوں میں داخل ہوئے تھے تو اُن اداروں کے نام پی ایم ڈی سی کی فہرست میں شامل تھے۔ اب اچانک اُس فہرست کو ختم کر دینا اُن طلبہ و طالبات کے لیے غیر یقینی اور مایوسی کا سبب بن گیا ہے۔