ہمارے خیالات اور دعائیں اس تکلیف دہ وقت میں متاثرین، ان کے اہل خانہ اور یہودی برادری کے ساتھ ہیں،مانچسٹر کی مساجد کا اجتماعی بیان
مانچسٹر کونسل آف مساجد شہر بھر میں 50 سے زیادہ مساجد کی نمائندگی کرتی ہے، جس میں 80,000 سے زیادہ افراد کی مشترکہ جماعت ہوتی ہے
چوہدری طلعت گوندل ریذیڈنٹ ایڈیٹر نوائے وقت گریٹر مانچسٹر ، ڈان ٹی وی رپورٹ
مانچسٹر:یہودی کیمونٹی کی عبادت گاہ کے باہرافسوس ناک واقع کے بعد کونسل آف مساجد اور انوار الحرمین جامع مسجد چیتھم ہل نے اپنے بیانات جاری کیے ہیں۔
مسلم راہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ ہیٹن پارک کی یہودی کیمونٹی کی عبادت گاہ کے باہر چھرا گھونپنے کے واقعہ پر مانچسٹر کی یہودی برادری کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔
مانچسٹر کونسل آف مساجد کا کہنا ہے کہ “ہمیں تشدد یا نفرت کے ذریعے تقسیم کرنے کی کوئی بھی کوشش ناکام ہو جائے گی”۔
جبکہ انوار الحرمین جامع مسجد کے چیف امام علامہ قمر الزمان اعظمی کا کہنا ہے کہ مسلمان “تقسیم کے بیج بونے کی کسی بھی کوشش کے باوجود” اپنے یہودی پڑوسیوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مانچسٹر میں تشدد یا نفرت کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ صرف اتحاد، امن اور ایک دوسرے کے احترام کی ضرورت ہے۔
مانچسٹر کونسل آف مساجد شہر بھر میں 50 سے زیادہ مساجد کی نمائندگی کرتی ہے، جس میں 80,000 سے زیادہ افراد کی مشترکہ جماعت ہوتی ہے۔
ایک بیان میں، انہوں نے کہا کہ:
“مانچسٹر کونسل آف مساجد مانچسٹر میں ایک عبادت گاہ کے باہر آج کے چھرا گھونپنے کے بارے میں سن کر ہم سب صدمے میں اور غمزدہ ہیں ۔
ہمارے خیالات اور دعائیں اس تکلیف دہ وقت میں متاثرین، ان کے اہل خانہ اور یہودی برادری کے ساتھ ہیں۔