ادارے بیچنے سے ترقی نہیں ہوتی:شہباز حکومت نے فرسٹ ویمن بینک 1 کروڑ 46 لاکھ ڈالر میں فروخت کر دیا، اماراتی کمپنی نے انتظام سنبھال لیا

یہ حکومت اس سے پہلے ایئرپورٹس، موٹرویز، بندرگاہیں اور دیگر ادارے فروخت کر چکی ہے

یہ بینک 1989 میں اس وقت کی وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے وژن کے تحت قائم کیا گیا تھا

کامرس رپورٹرنوائے وقت ، ڈان ٹی وی رپورٹ

اسلام آباد:پاکستان کی وفاقی کابینہ نے ’فرسٹ ویمن بینک لمیٹڈ‘ کو فروخت کرنے کی منظوری دے دی ہے، جو ملک کا پہلا اور واحد بینک ہے جو خواتین کے لیے مخصوص مالیاتی خدمات فراہم کرنے کے مقصد سے قائم کیا گیا تھا۔
اس فیصلے کے تحت حکومتِ پاکستان اپنے 82.64 فیصد حصص متحدہ عرب امارات کی نامزد کمپنی کو ایک کروڑ 46 لاکھ ڈالر میں فروخت کر رہی ہے۔
یہ کمپنی ابوظبی کی مشہور انٹرنیشنل ہولڈنگ کمپنی ہے جو شیخ طحنون بن زاید النہیان کی سربراہی میں کام کر رہی ہے۔
فرسٹ ویمن بینک کی تاریخ پاکستان میں خواتین کی معاشی خودمختاری کے ایک اہم باب سے جُڑی ہے۔ یہ بینک 1989 میں اس وقت کی وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے وژن کے تحت قائم کیا گیا تھا۔
اس کا مقصد خواتین کے کاروباری طبقے کو مالیاتی نظام میں شامل کرنا، ان کے لیے آسان قرضوں کی فراہمی، بچت کے منصوبے، مالی مشاورت اور کاروباری تربیت کے مواقع فراہم کرنا تھا۔
ابتدا میں یہ ادارہ ایک علامتی اور ترقی پسند تصور کے طور پر اُبھرا جس نے ہزاروں خواتین کو کاروبار اور پیشہ ورانہ زندگی میں قدم رکھنے کا حوصلہ دیا۔
تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انتظامی مسائل، سیاسی عدم استحکام، ناکافی سرمایہ کاری اور پالیسی کے غیر تسلسل نے اس ادارے کی ترقی کی رفتار کو سُست کر دیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *