صوبائی وزیر قانون پنجاب رانا محمد اقبال خان کی زیر صدارت پنجاب اے ڈی آر ایکریڈیٹیشن اتھارٹی کا اجلاس

شہزادہ عالمگیر بیورو چیف نوائے وقت ، ڈان ٹی وی

لاہور: صوبائی وزیر قانون پنجاب رانا محمد اقبال خان کی زیر صدارت پنجاب اے ڈی آر ایکریڈیٹیشن اتھارٹی (PADRAA) کا ایک اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں سیکرٹری قانون آصف بلال لودھی اور ڈی جی اے ڈی آر جاوید اکبر بھٹی بھی موجود تھے۔ اجلاس کے دوران صوبائی وزیر قانون کو اتھارٹی کے انتظامی امور، کارکردگی اور اے ڈی آر ایکٹ 2019 میں مجوزہ ڈرافٹ ترامیم کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ پنجاب اے ڈی آر ایکریڈیٹیشن اتھارٹی نے 03 نومبر 2025 سے کرکٹ ہاؤس، جیل روڈ لاہور میں کام کا آغاز کر دیا ہے جبکہ اتھارٹی چیئرپرسن، ڈائریکٹر جنرل، تین سرکاری ممبران (سیکرٹریز قانون، خزانہ، پراسکیوشن) اور پانچ ماہر ممبران پر مشتمل ہے۔ مزید بتایا گیا کہ PADRAA اتھارٹی، اے ڈی آر پرسنز، اے ڈی آر سینٹرز اور اے ڈی آر ٹریننگ اداروں کی ایکریڈیٹیشن اور لائسنسنگ کے فرائض انجام دے گی۔ اتھارٹی کے لائسنس یافتہ اے ڈی آر پرسنز اور مراکز عوام کے زیر التواء مقدمات کو فریقین کی باہمی رضامندی سے جلد حل کرنے میں معاون ثابت ہوں گے۔ صوبائی وزیر کو مزید بتایا گیا کہ ان ترامیم کا مقصد متبادل تنازعاتی حل کے نظام کو مزید مؤثر، شفاف اور عوام دوست بنانا ہے۔ اجلاس میں پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے نمائندے کی جانب سے PADRAA کی ویب سائٹ اور ایکریڈیٹیشن سافٹ ویئر کی تیاری پر ہونے والی پیش رفت سے بھی صوبائی وزیر قانون کو آگاہ کیا گیا۔ وزیر قانون نے ہدایت کی کہ اتھارٹی کی ویب سائٹ اور سافٹ ویئر کو جلد از جلد مکمل کیا جائے تاکہ عوام کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
صوبائی وزیر قانون رانا محمد اقبال خان نے مجوزہ قانونی ترامیم پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ ان ترامیم کو کابینہ سے منظوری کے بعد جلد اسمبلی میں پیش کیا جائے۔ اس موقع پر صوبائی وزیر قانون نے کہا کہ مجوزہ ترامیم سے عوام کو متبادل تنازعاتی نظام کے ذریعے بروقت انصاف کی فراہمی ممکن ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ متبادل تنازعاتی حل کا نظام عدالتی بوجھ کم کرنے اور فوری انصاف فراہم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ اجلاس میں محکمہ قانون کے عہدیداران اور دیگر متعلقہ نمائندگان نے شرکت کی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *