سٹاف/کورٹ رپورٹر ڈان ٹی وی ، نوائے وقت
اسلام آباد:پیکا ایکٹ کے تحت اسلام آباد سے گرفتار کیے گئے صحافی فخر الرحمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے۔
ان کا نام بھی وفاقی تحقیقاتی ادارے نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے اس مقدمے میں شامل تھا جو مبینہ طور پر ’ریاستی اداروں کے خلاف تضحیک آمیز مواد پھیلانے‘ کے الزام میں بعض صحافیوں، بلاگرز اور سیاسی کارکنوں کے خلاف درج کیا گیا تھا۔
ہفتے کو انہیں جوڈیشل میجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں فخر الرحمان نے جھوٹی انفارمیشن پھیلانے سے انکار کیا جبکہ وکیل صفائی نے کیس خارجی کی درخواست کی۔
دوسری جانب این سی سی آئی اے نے جسمانی ریمانڈ کے لیے استدعا کی تاہم عدالت نے ان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیا۔
پیکا ایکٹ 2016 (ترمیمی ایکٹ 2025) کی دفعات 20 اور 26 کے تحت 20 اپریل 2026 کو درج ہونے والی اس ایف آئی آر میں صحافی رضوان احمد خان، محمد صابر شاکر، معید حسن پیرزادہ، فخر الرحمان، سید حیدر رضا مہدی، عاقل حسین، عادل فاروق راجہ، سبطین رضا اور پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ٹیم کے جبران الیاس کو نامزد کیا گیا ہے۔
سماعت کے دوران وکیل صفائی احد کھوکھر نے مؤقف اختیار کیا کہ فخر الرحمٰن نے کسی جھوٹی معلومات کو خود تخلیق نہیں کیا بلکہ ایک مذہبی شخصیت کے بیان کو بطور حوالہ ٹویٹ کیا۔ ان کے مطابق اسی ویڈیو کو ہزاروں دیگر اکاؤنٹس نے بھی شیئر کیا جبکہ اصل بیان دینے والے کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔
وکیل صفائی نے عدالت کو بتایا کہ فخر الرحمٰن نے این سی سی آئی اے کے نوٹس کا جواب دیا اور تفتیش میں مکمل تعاون کر رہے ہیں، اس لیے انہیں کیس سے ڈسچارج کیا جائے۔