لایئو: اسلام آباد پولیس کا نیشنل پریس کلب میں گھس کر صحافیوں اور مظاہرین پربدترین تشدد، کیمرے توڑ دیے

اسلام آباد پولیس نے تاریخ میں پہلی بار نیشنل پریس کلب کے اندر داخل ہو کر صحافیوں پر تشدد کیا ،قائم مقام صدر احتشام الحق

خواتین کو بھی حراست میں لے لیا،پولیس اہلکاروں کی کیفے ٹیریا میں تھوڑ پھوڑ، ملازمین کیساتھ ناروا سلوک

طاقت کے نشے میں مدہوش حکمرانوں کو ہوش کے ناخن لینے چاہئں،صدر لندن میڈیا کلب ڈاکٹر اختر گلفام

سٹاف رپورٹر نوائے وقت ، ڈان ٹی وی رپورٹ

اسلام آباد/لندن: پولیس کے اہلکاروں نے جمعرات کے روز نیشنل پریس کلب کے اندر داخل ہو کر مبینہ طور پر توڑ پھوڑ کی اور صحافیوں سمیت کارکنوں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔
نیشنل پریس کلب کے باہر اس وقت کشمیر کمیونٹی سمیت مختلف تنظیموں کی جانب سے احتجاج جاری تھا۔ اسلام آباد پولیس کے اہلکار بھی اس موقع پر موجود تھے۔

عینی شاہدین کے مطابق جب مظاہرین نے نعرے بازی شروع کی تو پولیس نے احتجاج کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج اور گرفتاریوں کا آغاز کر دیا۔

لندن میڈیا کلب کے صدرڈاکٹر اختر گلفام نے مرد اور خواتین صحافیوں پر بدتریں تشدد کو ’انتہائی افسوسناک اور ناقابلِ قبول‘ قرار دیا۔
لندن میڈیا کلب کے صدرڈاکٹر اختر گلفام کا کہنا ہے کہ ’اسلام آباد پولیس نے تاریخ میں پہلی بار نیشنل پریس کلب کے اندر داخل ہو کر صحافیوں پربدترین تشدد کیا ہے۔ یہ ایک ناقابلِ برداشت عمل ہے۔ باہر احتجاج کی کوریج کرنے والے صحافیوں کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کی ہم شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔‘انہوں نے کہا کہ طاقت کے نشے میں مدہوش حکمرانوں کو ہوش کے ناخن لینے چاہئں۔

نیشنل پریس کلب کے قائم مقام صدر احتشام الحق نے اس واقعے کو ’انتہائی افسوسناک اور ناقابلِ قبول‘ قرار دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ نیشنل پریس کلب اس واقعے کے خلاف جلد اپنا لائحہ عمل جاری کرے گا۔
پولیس نے کشمیری کمیونٹی کے مظاہرے سے کئی خواتین کو بھی حراست میں لیا ہے۔ کشمیر کمیونٹی کے افراد پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں ہونے والے حالیہ مظاہرے کے دوران ہلاکتوں کے خلاف اور ان مظاہرین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے احتجاج کر رہے تھے۔
خیال رہے کہ احتجاج کے دوران کئی مظاہرین کو اسلام آباد پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔

آزاد کشمیر میں تشدد کے خلاف اسلام آباد میں احتجاج کرنے والے مظاہرین کو گرفتار کرنے کے لیے وفاقی پولیس اہلکار نیشنل پریس کلب کے اندر گھس گئے۔

آزاد کشمیر میں تشدد کیخلاف چند مظاہرین نیشنل پریس کلب کے باہر احتجاج کر رہے تھے، پولیس اہلکاروں کے وہاں پہنچنے پر کچھ مظاہرین پریس کلب کے اندر چلے گئے، جنھیں گرفتار کرنے کے لیے پولیس اہلکار بھی زبردستی نیشنل پریس کلب کے اندر گھس گئی۔

اس دوران اسلام آباد پولیس اہلکاروں نے نہ صرف مظاہرین کو گرفتار کیا بلکہ اندر موجود صحافیوں اور کلب ملازمین پر بھی تشدد کیا اور ایک فوٹو گرافر کا کیمرا بھی توڑ دیا جبکہ پولیس اہلکاروں نے کیفے ٹیریا میں تھوڑ پھوڑ بھی کی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *