پولیس با اثر ملزمان کے خلاف پرچہ درج کرنے کی بجائے صلح کے لئے دباؤ ڈالنے لگی ، ڈی پی او ساہیوال سے انصاف کی اپیل

رانا وحید بیوروچیف ڈان ٹی وی ، نوائے وقت لندن

ساہیوال:پولیس با اثر ملزمان کے خلاف پرچہ درج کرنے کی بجائے صلح کے لئے دباؤ ڈال رہی ہے۔ ایک ہفتہ گزر جانے کے باوجود ہمیں انصاف فراہم نہیں کیا گیا ۔پولیس سے ہمیں انصاف کی کوئی امید نہیں۔ ڈی پی او ساہیوال سے انصاف کی اپیل۔ چک نمبر 14 اے سکس کی رہائشی نجمہ بی بی نے بتایا کہ با اثر ملزمان کے ساتھ پولیس کی ساز باز ہو چکی ہے اوروہ صلح کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے پولیس نے ملزمان کو گرفتار کر کے چھوڑ دیا۔ ہماری ڈی پی او ساہیوال سے فوری داد رسی کا مطالبہ اس نے بتایا اویس ولد اشرف ارمان ولد نا معلوم اقوام گجر قمر ولد سکنائے چک نمبر 1-6/14 تحصیل چیچہ وطنی ضلع ساہیوال۔
سائلہ چک نمبر 1-6/14 تحصیل چیچہ وطنی ضلع ساہیوال کی مستقل رہائشی ہے خانہ داری اور گھریلو پردہ دار خاتون ہے۔ ایک ہفتہ قبل با اثر ملزمان نے مجھے تشدد کا نشانہ بنایا میرے شور واویلہ سن کر باہر نکلی تو دیکھا کہ الزام عالیہ نمبر 3 قمر میرے حقیقی بھائی اخلاق کے ساتھ گتھم گتھا ہے اور میرے بھائی کو زدو کوب کر رہا تھے میں برادرم کو چھڑوا کر گھر لے آئی۔ اس کے فورا بعد الزام علیہان اولیس گجر اور ارمان شجر گالی گلوچ و جان سے مارنے کی دھمکیاں دیتے ہوئے گھر میں گھس آئے۔ مجھے زبر دستی کھینچ کر بازار میں لے آئے ۔ اویس نے مجھے بالوں سے پکڑ کر تھپڑوں اور ٹھڈوں سے زد و کوب کرنا شروع ہو گیا جس سے مجھے منہ، کمر، سر پر چوٹیں آئیں۔ برادرم اخلاق مجھے چھڑوانے آیا تو ارمان نے گھونسا مارا جو برادرم کو بائیں آنکھ پر لگا۔ پھر ارمان نے سوٹے کے پے در پے وار کیے جو بر درام کو بائیں بازو پر لگے۔ شور پر محلہ در ان ادیب انور ولد انور اور محمد شاہد ولد افتخار حسین و دیگر موقع پر آگئے ۔جنہوں نے وقوعہ ہذا بچشم خود دیکھا منت سماجت کر کے میری جان بخشی کروائی۔ سائلہ نے 15 پر بھی کال کی۔ وقوعہ کی باقاعدہ ویڈیو موجود ہے جس میں الزام علیہان کو سائلہ پر تشدد کرتے سر عام دیکھا جا سکتا ہے اس کے بعد سائلہ نے S.H.O تھا نہ کسووال کو اندراج مقدمہ کے لیے درخواست دی لیکن S.H.O تھا نہ کسووال گجر برادری سے ہے جو کہ F.IR دینے پر لیت ولیل کر رہا ہے اور سائلہ پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ صلح کر لو۔ جبکہ سائلہ انصاف لینا چاہتی ہے اور الزام علیہان کے خلاف کاروائی چاہتی ہے مہربانی فرما کر الزام علیہان کے خلاف مقدمہ درج کیے جانے کا حکم صادر فرمایا جائے تاکہ سائلہ کی دادرسی ہو سکے۔پولیس میں ملزمان کو گرفتار کرنے کے بعد چھوڑ دیا۔پولیس سے ہمیں انصاف کی کوئی امید نہیں۔ ڈی پی او ساہیوال سے فوری انصاف کا مطالبہ کیا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *