شہزادہ عالمگیر بیورو چیف نوائے وقت ،ڈان ٹی وی
لاہور: صوبائی وزیر توانائی ملک فیصل ایوب کھوکھر نے کہا کہ عوام تک سستی، معیاری اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی ہی حکومت پنجاب کا بنیادی ایجنڈا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا وژن ہے کہ ہر گھر اور ہر ادارے تک جدید، ماحول دوست اور قابلِ اعتماد توانائی پہنچائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ توانائی کے منصوبوں میں مکمل شفافیت، میرٹ اور بروقت تکمیل کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے محکمہ توانائی میں سالانہ ترقیاتی اسکیموں 2025-26 کا تفصیلی جائزہ لینے کے دوران کیا۔ اجلاس میں سیکرٹری توانائی ڈاکٹر فرخ نوید ، ایڈیشنل سیکرٹری ماجد اقبال اور دیگر عہدیداران نے صوبائی وزیر کو صوبے بھر میں توانائی کے شعبے میں جاری اور نئے منصوبوں پر پیش رفت، شفافیت اور بروقت تکمیل کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی ۔ بائیو گیس پلانٹ گجر کالونی، وزیراعلیٰ پنجاب فری سولر پینل اسکیم، سرکاری اداروں کی سولرائزیشن، ڈسٹرکٹ و سیشن کورٹس اور ہائیکورٹ بنچز، پنجاب کے تمام کالجز اور ہائیر سیکنڈری اسکولز کی سولرائزیشن، ڈی ایچ کیو اور ٹی ایچ کیو ہسپتالوں، ریموٹ مانیٹرنگ سسٹم، فزیبلٹی اسٹڈی ونڈ ٹربائنز، الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی پنجاب، گورنر ہاؤس پنجاب کی سولرائزیشن سمیت دیگر منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔
صوبائی وزیر کو آگاہ کیا گیا کہ متعدد منصوبے جون 2026 تک مکمل کر لیے جائیں گے۔ وزیراعلیٰ پنجاب فری سولر پینل اسکیم کے تحت ڈویژن وائز 67,184 سولر سسٹمز نصب کیے جا چکے ہیں۔ مرالہ، پاکپتن اور میانوالی پراجیکٹس مکمل جبکہ ڈیگ آؤٹ فال پراجیکٹ دسمبر 2026 تک مکمل ہو جائے گا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ بائیو فرٹیلائزرز پلانٹ گجر کالونی کی پری کوالیفیکیشن مکمل ہو چکی ہے جبکہ ہائر سیکنڈری اسکولز کی سولرائزیشن کے تحت مجموعی 256 میں سے رواں سال 50 اسکول مکمل کر لیے جائیں گے۔ ٹیوب ویلز سولرائزیشن اسکیم اوکاڑہ کے حوالے سے بتایا گیا کہ 765 کے وی کے 17 ٹیوب ویلز میں سے 12 کی مشینری کی ترسیل مکمل ہو چکی ہے۔ اسی طرح اپ گریڈیشن آف سولر پی وی ماڈیول ٹیسٹنگ لیب کالا شاہ کاکو کیمپس کا کنٹریکٹ بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ سولرائزیشن آف پبلک بلڈنگز بشمول سینٹرل جیل کوٹ لکھپت، پولیس لائن قلعہ گجر سنگھ لاہور، لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی، یونیورسٹی آف ہوم اکنامکس، بیورو آف اسٹیٹکس، ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ سمیت دیگر عمارات بھی جون 2026 تک مکمل ہوں گی۔ اجلاس میں گرین انرجی کے منصوبوں، ریموٹ مانیٹرنگ سسٹم اور الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی پنجاب کے قیام سے متعلق بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
صوبائی وزیر نے ہدایت کی کہ تمام پراجیکٹس میں جدید ٹیکنالوجی پر مشتمل آلات استعمال کیے جائیں۔بیک اپ سسٹم کو بہترین اور مؤثر بنایا جائے تاکہ بجلی کی فراہمی میں کوئی خلل نہ آئے۔ انہوں نے تاکید کی کہ محکمہ کے افسران مزید بہتر تجاویز اور قابلِ عمل سفارشات پیش کریں تاکہ منصوبوں کی افادیت میں اضافہ ہو اور ریموٹ مانیٹرنگ سسٹم کے ذریعے تمام منصوبوں کی نگرانی کو مزید مضبوط بنایا جائے۔ صوبائی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ گرین انرجی کے فروغ سے پنجاب کو توانائی کے شعبے میں خود کفیل بنانے کی کوششیں تیز کی جائیں۔صوبائی وزیر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ محکمہ توانائی پنجاب عوامی خدمت کے جذبے کے تحت تمام منصوبوں کو مقررہ مدت میں مکمل کرے گا اور توانائی کے بحران کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے گا۔ اس موقع پر مینیجنگ ڈائریکٹر پنجاب پاور ڈیولپمنٹ بورڈ ثانیہ اویس، سی ای او پی پی ڈی سی ایل عدنان مدثر اور دیگر متعلقہ افراد بھی موجود تھے۔