سٹاف رپورٹرنوائے وقت ، ڈان ٹی وی رپورٹ
برسلز:بیلجیئم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں فلسطین کو ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا۔
یہ اعلان بیلجیئم کے وزیر خارجہ نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں کیا۔
دوسری جانب برطانیہ کے وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی نے کہا ہے کہ اگر غزہ میں جنگ بندی پر کوئی پیش رفت نہ ہوئی تو برطانیہ بھی رواں ماہ جنرل اسمبلی اجلاس میں فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کرے گا۔
ڈیوڈ لیمی کے مطابق غزہ میں انسانی صورتحال کو بہتر بنانے کا واحد راستہ فوری اور غیر مشروط جنگ بندی ہے۔ انہوں نے اسرائیل سے فوجی کارروائیاں بڑھانے کا سلسلہ روکنے کا مطالبہ بھی کیا۔
بیلجیئم کے وزیر خارجہ میکسم پریوٹ نے اعلان کیا ہے کہ ان کا ملک رواں ماہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں فلسطین کی ریاست کو تسلیم کر لے گا۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق میکسم پریوٹ نے منگل کو ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’فلسطین کو اقوام متحدہ کے اجلاس میں تسلیم کر لیا جائے گا اور اسرائیلی حکومت کے خلاف سخت پابندیاں بھی لگائی جا رہی ہیں۔‘
بیلجیئم کے وزیر خارجہ میکسم پریوٹ کا کہنا تھا کہ ’یہ فیصلہ غزہ میں جاری انسانی المیے کے پیش نظر کیا گیا ہے، جہاں اسرائیلی حملے کی وجہ سے کم از کم ایک بار زیادہ تر آبادی کو بے گھر ہونا پڑا ہے اور اقوام متحدہ نے وہاں قحط آنے کا اعلان کر رکھا ہے۔‘
انہوں نے مزید لکھا کہ ’اسرائیل کی جانب سے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی، نسل کشی کے خطرات کو روکنے اور اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کو نگاہ میں رکھتے ہوئے بیلجیئم کو سخت فیصلے کرنا پڑے جن کا مقصد اسرائیلی حکومت اور حماس پر دباؤ بڑھانا ہے۔‘
میکسم پریوٹ کا مزید کہنا تھا کہ ’اس کا مقصد اسرائیلی عوام کو سزا دینا نہیں ہے بلکہ یہ امر یقینی بنانا ہے کہ ان کی حکومت بین الاقوامی اور انسانی قوانین کا احترام کرے اور کچھ ایسا اقدام کیا جائے کہ جس کی بدولت صورت حال میں تبدیلی آئے۔