خیبر یونین آف جرنلسٹس (KHUJ) کے زیر اہتمام پشاور پریس کلب کے سامنے صحافی عرفان خان پر درج مقدمے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ

بیوروچیف نوائے وقت ، ڈان ٹی وی

پشاور:خیبر یونین آف جرنلسٹس (KHUJ) کے زیر اہتمام پشاور پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں صحافی برادری نے پیکا ایکٹ کے تحت سینئر صحافی عرفان خان کے خلاف درج مقدمے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے آزادیٔ صحافت پر قدغن قرار دیا۔
احتجاج میں خیبر یونین آف جرنلسٹس کے صدر کاشف الدین سید، پشاور پریس کلب کے صدر ایم ریاض، پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے ورکرز) کے صدر شمیم شاہد، کے ایچ یو جے کے سابق صدر ناصر حسین سمیت درجنوں صحافیوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر صحافیوں کی بڑی تعداد موجود تھی جنہوں نے آزادیٔ صحافت کے حق میں نعرے بازی کی۔
مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے خیبر یونین آف جرنلسٹس کے صدر کاشف الدین سید نے کہا کہ پیکا ایکٹ (PECA) ایک کالا قانون ہے جسے ماضی میں بھی صحافی برادری نے مسترد کیا تھا اور اس کے تحت مقدمات کا اندراج کسی صورت قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ عرفان خان کے خلاف درج مقدمہ فوری طور پر واپس لیا جائے ورنہ یہ عمل صحافت کو دبانے کی کھلی کوشش تصور کیا جائے گا۔ پاکستان میں جمہوریت کی بقا صرف اور صرف آزاد میڈیا اور آزاد صحافت سے مشروط ہے۔ اگر صحافیوں کی آواز کو دبانے کی کوشش کی گئی تو یہ نہ صرف آئین کے خلاف ہوگا بلکہ عوام کے بنیادی حقِ معلومات پر بھی قدغن لگے گی۔
مظاہرے کے دوران مطالبہ کیا گیا کہ پیکا ایکٹ کو مکمل طور پر ختم کرنے اور صحافیوں کے خلاف قائم مقدمات ختم کئے جائیں۔ مظاہرے میں حکومت کو تنبیہ کی گئی کہ اگر عرفان خان کے خلاف مقدمہ واپس نہ لیا گیا تو احتجاج کا دائرہ کار وسیع کیا جائے گا اور آئندہ بڑا احتجاجی مظاہرہ خیبرپختونخوا اسمبلی میں کیا جائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *